دنیا
2 منٹ پڑھنے
معاہدہ طے پانے کو ہے: ٹرمپ
ایران۔امریکہ جنگ کے خاتمے کے مذاکرات بڑی حد تک مکمل ہو چُکے ہیں اور ایک معاہدہ طے پانے کو ہے: صدر ڈونلڈ ٹرمپ
معاہدہ طے پانے کو ہے: ٹرمپ
امریکی صدر کا اشارہ، جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدہ آخری مراحل میں ہے۔ (فائل فوٹو) / Reuters

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ "ایران۔امریکہ جنگ کے خاتمے کے مذاکرات بڑی حد تک مکمل ہو چُکے ہیں اور ایک معاہدہ طے پانے کو ہے"۔

سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان میں  ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس تاریخی مفاہمت میں امریکہ، ایران اور کئی دیگر ممالک شامل ہیں۔

"امریکہ، اسلامی جمہوریہ ایران اور دیگر مختلف  ممالک کے درمیان ایک معاہدے پر مذاکرات بڑی حد تک مکمل ہو چُکے ہیں  اور معاہدہ آخری شکل اختیار کرنے کو ہے"۔

انہوں نے کہا ہے کہ معاہدے کی آخری تفصیلات اور نکات اس وقت زیرِ غور ہیں اور جلد ہی ان کا اعلان کر دیا جائے گا۔ معاہدے کے کئی عناصر  کے ساتھ مربوط شکل میں آبنائے ہرمز بھی کھول دی جائے گی۔"

معاہدے کے لیے علاقائی دباؤ

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے کئی علاقائی رہنماؤں کے ساتھ ایک مشترکہ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران اس ممکنہ معاہدے پر تبادلۂ خیال کیا اوریہ گفتگو "بہت اچھی" رہی ہے۔

ٹرمپ کے مطابق سفارتی مذاکرات میں ترکیہ، سعودی عرب، قطر، پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اعلیٰ حکام اور رہنما شریک تھے۔

ایکسیئس نے ایک اندرونی ذریعے کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ مشترکہ کال میں شریک تمام علاقائی رہنماؤں نے ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاہدے کو آگے بڑھائیں۔

ذرائع کے مطابق علاقائی رہنماؤں کا مشترکہ پیغام یہ تھا کہ جنگ کا خاتمہ پورے خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران پاکستان کی ثالثی میں تجاویز اور جوابی تجاویز پر مذاکرات کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی شرائط، تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کےحل اور باہمی پابندیوں میں نرمی کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔