غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
صدر ایردوان، برسوں سے غزہ کی سب سے بلند آواز رہے ہیں
ترک صدر نے اپنے خطابات میں مظلوم علاقوں میں بچوں کے کرب کو سامنے رکھتے ہوئے حقائق کو قاتلوں کے منہ پر طمانچے کے طور پر بیان کیا ہے۔
صدر ایردوان، برسوں سے غزہ کی سب سے بلند آواز رہے ہیں
صدر ایردوان برسوں سے غزہ کی سب سے توانا آواز رہے ہیں۔ (ٹی آر ٹی خبر) / TRT Haber

جمہوریہ  ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، 7 اکتوبر 2023 سے قبل اور اس کے بعد بھی فلسطین کے مقدمے کی گونجدار آواز رہے۔ اردوان نے برسوں سے ہر فورم پر فلسطین کے مقدمے اور غزہ کی حمایت کو قوتِ بھرپور کے ساتھ بیان کیا۔

گاہے بگاہے سنسنی خیز تصویروں کے ساتھ فلسطین میں ہونے والی نسل کشی کی حقیقت ان کے سامنے رکھ دینے والے ایردوان  کی جانب سے  2019 میں اقوامِ متحدہ میں  دریافت کردہ سوال"اسرائیلی ریاست کی حدود کہاں  تک ہیں؟" آج بھی ہمارے ذہنوں میں نقش ہے۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ"وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم چپ رہیں تو مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ حالانکہ اگر ہم  خاموشی اختیار کر  بھی لیں تو تاریخ  خاموش  نہیں رہے گی۔ اگر تاریخ چپ ہو جائے تو حقیقت خاموش نہیں رہے گی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ ہم سے چھٹکارا پا لیں تو کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ حالانکہ اگر وہ ہم سے چھٹکارا پا لیں تو ضمیر کے عذاب سے نجات نہیں پاسکیں گے۔ اگر ضمیر کے عذاب سے بھی چھٹکارا پا لیں تو تاریخ کے عذاب سے بچ نہیں پائیں گے۔ اگر تاریخ کے عذاب سے بھی بچ گئے تو اللہ کے غضب سے نجات نہیں پائیں گے۔"

مظلوم علاقوں کے معصوم بچوں کی کہانیاں مؤثر الفاظ میں بیان کرنے والے ایردوان نے دنیا سے مخاطب ہوتے ہوئے اور دوطرفہ ملاقاتوں میں بھی غزہ کو ہمیشہ اپنے ایجنڈے کی بالائی صف میں رکھا۔

صدر رجب طیب اردوان:"یہ انسانیت کی نچلی ترین  سطح ہے، پچھلے ایک صدی میں انسانیت نے اس قدر وحشت نہیں دیکھی۔"

صدر ایردوان نے حقائق کو کبھی پیچھے نہیں ہٹنے دیا اور نسل کشی کرنے والوں کے منہ پر مارا ۔ جتنا وہ بولتے گئے اتنا ہی اسرائیل ناخوش ہوا اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال سے اسرائیلی وفد ہال چھوڑ کر چلا گیا۔

صدر رجب طیب اردوان:"میں اپنے دل اور الفاظ کے درمیان پردہ ڈالے بغیر یہاں کچھ حقائق کھل کر بیان کروں گا۔ کوئی برا مت مانے، کوئی ناراض نہ ہو — یہ رجب طیب ایردوان کا ذاتی معاملہ نہیں ہے؛ یہ ایک انسانی معاملہ ہے۔ یہ ہم سب کے لیے ضمیر کا معاملہ ہے۔"

ترکیہ نے بین الاقوامی رائے عامہ کو متحرک کرنے کے لیے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر کوششیں جاری رکھیں۔

ایردوان نے فلسطینی کاز کو ہمیشہ ایک قومی مسئلہ سمجھا۔ ترکیہ کی حمایت کو ہر فورم پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔

 

دریافت کیجیے
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شکار ایک محلے سے مزید 12 لاشیں بازیاب
اسرائیل نے ڈرون حملہ کر کے دو فلسطینیوں کو قتل اور 13 کو زخمی کر دیا
فلسطین: ہم برکس کے اعلامیے کا خیر مقدم کرتے ہیں
اسرائیل: مقبوضہ مشرقی القدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کر دیا جائے
اسرائیلی فورسز کے چھاپے کے دوران ایک فلسطینی شخص کو قتل کر  دیا گیا
غزہ میں قاتل اسرائیل کے حملوں میں مزید 5 فلسطینی شہید
ترکیہ اور 7 دیگر ممالک کی طرف سے اسرائیل کے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی منصوبوں کی مذمت
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
اسرائیلی فوجیوں نے نمازیوں پر آنسو گیس چھوڑ دی
حماس: اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت مختلف شکلوں میں جاری رکھی گئی جنگ ہے
اسرائیلی ربی کا مطالبہ: فلسطینی مغربی کنارے سے نکل جائیں
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
اسرائیل کے غزہ پر حملوں میں تباہ شدہ مکانات کے ملبے تلے سے 233 فلسطینی شہریوں کی لاشیں بازیاب
غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں میں 63 فیصد اضافہ
اسرائیلی فوج نے تین سالہ جنگ میں 30 سال کے استعمال کے لائق گولیاں استعمال کی ہیں
اسرائیلی فوجی حکام نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے تشدد میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں: رپورٹ
فلسطین: عالمی کمپنیاں اسرائیل کے 'ای 1' منصوبے میں شرکت سے گریز کریں
اسرائیل نے تقریباً 650 مکانات پر مشتمل ایک اور غیر قانونی آبادکاری منصوبے پر کام شروع دیا
نتن یاہو غزہ میں جنگ بندی یا ٹرمپ کے منصوبے کے تحت انخلاء کو مسترد کرتے ہیں: رپورٹ