پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی حمایت میں لانگ مارچ کو ایک ہفتے کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے، منتظمین نے کہا کہ اس کا مقصد حکومت کومتاثر کرنا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جمعہ کی رات گئے بتایا کہ پشاور سے اسلام آباد تک مارچ اب 4 اکتوبرسے شروع ہوگا۔
آفریدی ، جن کے صوبے کی حکومت عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) چلا رہی ہے، نے کہا کہ ’احتجاج کو مؤخر کرنا ہماری حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ہمیں وفاقی حکومت کو بیزار کرنا ہوگا۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب حکام نے اتوار کو شیڈول کیے گئے احتجاج سے پہلے اسلام آباد کے مرکزی داخلہ راستوں کو دو تہہ والے شپنگ کنٹینرز سے بند کر دیا تھا، جس سے ٹریفک اور عوامی نقل و حمل متاثر ہوئی تھی۔
حکام نے اے ایف پی کو بتایا کہ پولیس نے اسلام آباد کو سیل کرنے کے لیے 22,000 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے اور خیبر پختونخوا صوبے سے آمد و رفت پر پابندی لگا دی تھی۔
اہم شاہراہیں، داخلہ پوائنٹس اور بڑے چوراہے بند کر دیے گئے، جس سے نقل و حمل کے رابطے مکمل طور پر منقطع ہو گئے اور نقل و حرکت عملاً رک گئی۔
منصوبہ بند احتجاج سے قبل حکومت کے پیشگی کریک ڈاؤن میں اس ہفتے کے شروع میں خان کی بہنیں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی حراست بھی شامل ہو گئی۔
73 سالہ عمران خان جو اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں متعدد مقدمات میں سزائیں ہوئی ہیں جنہیں وہ اور ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے سیاسی فیصلے قرار دیتے ہیں۔
ان میں سے بعض سزاؤں کو معطل یا کالعدم قرار دیا گیا ہے، جبکہ کئی اپیلیں اعلیٰ عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

















