میڈیا رپورٹ کے مطابق، میانمار کی فوج کی جانب سے ریاست راکھائن کے شمالی قصبے کیوکٹاؤ میں ایک دن پہلے کیے گئے فضائی حملے میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
’دی اراوتی‘اخبار نے منگل کے روز رپورٹ کیا کہ فوج نے پیر کو شمالی راکھائن کے قصبے کیوکٹاؤ میں ایک پل اور مارکیٹ پر حملہ کیا، جو اس وقت ایک اپوزیشن گروپ کے کنٹرول میں ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اس حملے میں تقریباً 58 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ایک فوجی جیٹ طیارے نے کساپناڈی یا کالادان پل اور ایک پرہجوم بازار کو نشانہ بنایا جسے 'انڈین مارکیٹ' کہا جاتا ہے، جہاں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں پیدل چلنے والے، خریدار اور مزدور شامل تھے۔
دریائے کالادان کے کناروں پر واقع ساحلی قصبے کیوکٹاؤ پر اس ہفتے کا یہ حملہ، برمی جنتا کے رہنما من اونگ ہلاینگ کے رواں سال اپریل میں صدر منتخب ہونے کے بعد سے اب تک کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک ہے۔
میانمار برسوں سے ایک طویل خانہ جنگی کا شکار ہے، جس میں فروری 2021 میں من اونگ ہلاینگ کی جانب سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد مزید شدت آ گئی تھی۔
ملک کے مختلف حصوں میں کئی نسلی اپوزیشن گروپس من اونگ ہلاینگ کی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
ریاست راکھائن بنیادی طور پر روہنگیا برادری کا مسکن ہے، جو کہ ایک مسلم اکثریتی گروہ ہے اور اسے میانمار کی فوجی حکومت کے ساتھ ساتھ دیگر مخالف گروپوں کی طرف سے بھی ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کو اس بدھ مت اکثریتی جنوب مشرقی ایشیائی ملک سے باہر نکلنے پر مجبور کیا گیا ہے۔"


















