امریکہ اور ایران 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
ایکسیئس نے مجوّزہ معاہدے سے واقف امریکی عہدیدار کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ آبنائے ہُرمز کو کھولنے، ایران کے تیل کی فروخت دوبارہ شروع کرنے اور تہران جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لئے مہلت کی خاطر امریکہ اور ایران 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔
خبر میں کہا گیا ہے کہ تاحال غیر حتمی اس معاہدے کے بروز اتوار اعلان کی توقع ہے۔تاہم حکام نے خبردار کیا کہ معاہدے کے آخری لمحات میں بھی ناکام ہو سکنے کی خدشات موجود ہیں۔
مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق، ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں صاف کرے گا اور جہازوں کو بلا معاوضہ گزرنے کی اجازت دے گا۔
اس کے بدلے واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرے گا اور تہران کو 60 روزہ مدّت کے دوران آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے کے لیے محدود پابندیوں میں نرمی کرے گا۔
ایک امریکی عہدیدار نے اس انتظام کو "کارکردگی کے بدلے نرمی" قرار دیا اور کہا ہےکہ اقتصادی سہولت پیشگی نہیں بلکہ ایران کے عملی اقدامات کے بعد فراہم کیا جائے گا۔
مسودے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، یورینیم افزودگی بند کر دےگا اور زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے خاتمے سے متعلق مذاکرات کرے گا۔
مزید وسیع پابندیوں میں نرمی یا ایرانی اثاثوں کی رہائی پر جنگ بندی کے دوران بات چیت ہوگی تاہم ان پر عملدرآمد صرف حتمی اور قابلِ تصدیق معاہدے کے حصے کے طور پر ہوگا۔
خطے میں تعینات امریکی افواج 60 روزہ مدت کے دوران اپنی موجودہ پوزیشن پر برقرار رہیں گی اور صرف حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں واپس بلائی جائیں گی۔
ایسا بھی لگتا ہے کہ یہ معاہدہ لبنان میں اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں سے جڑا ہوا ہے۔
خبروں کے مطابق بنیامین نیتان یاہو نے ہفتے کے روز ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ گفتگو میں اس شرط پر خدشات کا اظۃار کیا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر حزب اللہ دوبارہ اسلحہ جمع کرنے یا حملے شروع کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسرائیل کو کارروائی کی اجازت دی جائے گی۔
سعودی عرب، قطر، مصر، ترکیہ، پاکستان اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں نے ان سفارتی کوشش کی حمایت کی ہے۔
پاکستان، معاہدے کو حتمی شکل دینے کی خاطر فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران کے ساتھ، ثالثی میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ باقی مسائل چند گھنٹوں میں حل ہو سکتے ہیں، تاہم امریکی حکام نے کہا کہ اگر واشنگٹن اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ایران جوہری مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے تو جنگ بندی قبل از وقت بھی ختم کی جا سکتی ہے۔








