ترکیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ کاروائیاں خطّے کی کشیدگی میں اضافہ کر رہی ہیں۔
ترکیہ وزارتِ خارجہ نے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا ہے کہ خطے میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیاں کشیدگی میں اضافہ کر رہی ہیں لہٰذا عالمی برادری اس صورتِ حال کے خلاف حرکت میں آئے۔
بیان میں ،مذکورہ علاقے میں اسرائیلی سرگرمیوں کو 1974 میں طے پانے والے افواج کی علیحدگی کے معاہدے کو کمزور کرنے کا سبب قرار دیا گیا اور کہا گیاہے کہ
"ہم اسرائیل کے، شام کے صوبہ قنیطرہ میں، نام نہاد ’صوفا 53 لائن‘ پردوبارہ سرگرمیاں شروع کرنے، 1974 کے افواج کی علیحدگی کے معاہدے کو کمزور کرنے اور شام میں نئی زمینی صورتِ حال مسلط کرنے کی کوششوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیل کی جانب سے خطے میں کشیدگی کو بڑھانے والی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے خاتمے اور مقبوضہ شامی علاقوں سے اسرائیلی انخلا کے لیے فوری، مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔
ترکیہ شام کی خودمختاری، سیاسی وحدت اور علاقائی سالمیت کی حمایت کو پوری ثابت قدمی کے ساتھ جاری رکھے گا اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اس مقصد کے لیے ضروری اقدامات کرتا رہے گا۔"
























