اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس "پری-کاپ" کا آغاز فجی کے شہر ناڈی میں ہو گیا ہے، جہاں بحر الکاہل کے رہنما گلوبل وارمنگ کی زد میں آنے والے کمزور جزیراتی ممالک کے تحفظ کے لیے فوری عالمی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
فجی اور مرجانی جزائر پر مشتمل ملک توُوالو میں ہونے والے یہ مذاکرات COP31 کا ایک سفارتی پیش خیمہ ہیں، جو اس سال کے آخر میں انطالیہ، ترکیہ میں منعقد ہونے والی عالمی موسمیاتی کانفرنس ہے۔
بحر الکاہل کے رہنما اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ دنیا، گلوبل وارمنگ کو سختی سے 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے پر کاربند رہے، ماحولیاتی موافقت کے فنڈز تک رسائی کو بڑھائے، اور سمندروں کے تحفظ کو ترجیح دے۔
فجی کی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی لنڈا تابویا نے مندوبین کو بتایا: "ہمارے وزیر اعظم اس ہفتے رہنماؤں تک تین واضح پیغامات پہنچائیں گے جن میں 1.5 ڈگری کے ہدف کو ممکنہ حد کے اندر رکھنا، فنڈز کو ان کمیونٹیز تک پہنچانا جنہیں اس کی ضرورت ہےاور موسمیاتی نظام میں سمندر کو اس کا جائز مقام دینا شامل ہوگا۔"
اقوام متحدہ کی ایک تشخیصی رپورٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح جو بحر الکاہل میں عالمی اوسط سے دوگنی رفتار سے بڑھ رہی ہے2050 تک 1.2 ارب افراد کو بے گھر کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں فنڈز کی شدید کمی کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے 310 ارب سے 365 ارب ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ 2023 میں صرف 26 ارب ڈالر دستیاب تھے۔
یہ علاقائی مذاکرات کاپ 31 کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں، جس کی میزبانی ترکیہ 9 سے 20 نومبر 2026 تک ساحلی شہر انطالیہ میں کرے گا۔





















