صدر ایردوان: ہم نے معیاری اعلی تعلیم کو اناطولیہ کے ہر گوشے تک پہنچایا ہے
ترکیہ
4 منٹ پڑھنے
صدر ایردوان: ہم نے معیاری اعلی تعلیم کو اناطولیہ کے ہر گوشے تک پہنچایا ہےایردوان: میری  دِلی تمنا  ہے کہ ہمارے طلباء نئے علم اور تجربات حاصل کریں، ہمارے اساتذہ اپنی نئی اشاعتوں اور تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے ممتاز ہوں، اور یونیورسٹیاں مزید احسن کام سر انجام دیں۔"
صدر ایردوان نے بیش تپے ملت کانگریس اور ثقافتی مرکز میں ”2026-2027 تعلیمی سال کی افتتاحی تقریب“ سے خطاب کیا۔ (ٹی آر ٹی خبر) / TRT Haber

جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے ایوان صدر کانگریس و مرکز ثقافت میں "2026-2027 علمی سال کے افتتاحی اجلاس"سےخطاب کیا۔

صدر ایردوان کی تقریر کے نمایاں نکات:

"میں دعا گو ہوں کہ نیا علمی سال خصوصاً ہائر ایجوکیشن کے حلقوں اور ہماری قوم کے لیے خیر و برکت کا باعث بنے۔ میری  دِلی تمنا  ہے کہ ہمارے طلباء نئے علم اور تجربات حاصل کریں، ہمارے اساتذہ اپنی نئی اشاعتوں اور تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے ممتاز ہوں، اور یونیورسٹیاں مزید احسن کام سر انجام دیں۔"

"یونیورسٹی  میں زیرِ تعلیم ہونا بعض اوقات منزل تک پہنچنے سے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے"

ماضی میں یونیورسٹیوں کا بنیادی مقصد موجودہ علم کی منتقلی تھا۔ انیسویں صدی سے موجودہ علم کی تعلیم کے علاوہ تحقیقی سرگرمیوں کی بھی اہمیت بڑھنے لگی۔ یعنی یونیورسٹیاں صرف علم سکھانے والے ادارے نہیں رہیں بلکہ تحقیق کے ذریعے علم کو فروغ دینے  والے ادارے بن گئیں۔ آج کی یونیورسٹیاں وہ ادارے ہیں جو موجودہ علم کو طلباء تک پہنچاتی ہیں، تحقیق کے ذریعے نئے علم تک پہنچتی ہیں اور ان حاصل شدہ معلومات کو معاشرے کے ساتھ بانٹ کر مسائل کے حل میں حصہ ڈالتی ہیں۔

"ہم نے یونیورسٹیوں کی تعداد 76 سے بڑھا کر 208 تک پہنچا دی"

بطور حکومت ہم  شعبہ تعلیم میں کی گئی ہر سرمایہ کاری کو دراصل بنی نو انسانوں  اور اپنی آئندہ نسل کے لیے سرمایہ کاری  مانتے  ہیں۔ گزشتہ 24 سال میں خاص طور پر اعلی تعلیم  کے شعبے میں ہم نے انقلابی نوعیت کے قدم اٹھائے۔ جب ہم برسرِ اقتدار آئے  تو یونیورسٹیوں کی تعداد 76 تھی جسے ہم نے 208 تک، ہاسٹلوں کی تعداد 190 سے بڑھا کر 877 تک اور بستروں  کی گنجائش کو ایک لاکھ 82 ہزار  سے بڑھا کر ایک ملین تک پہنچایا ہے۔

"ہم نے اعلی تعلیم کے عمل کو اناطولیہ کے کونے کونے تک پہنچایا"

ہم نے اعلی معیار کی خدمات کو اناطولیہ کے ہر حصے تک پہنچایا۔ قطع نظر  کہ کوئی کس آمدنی گروپ سے تعلق رکھتا ہے، تاکہ اس ملک کے بچوں کو ان کے رہائشی شہروں میں تعلیم کے مواقع میسر ہوں، ہم نے ریاستی وسائل کو متحرک کیا۔ ہم یہ چاہتے تھے کہ امیر کا بچہ  تعلیم حاصل کرتے وقت  غریب کا بچہ اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے محروم نہ رہے، اپنے خوابوں کو ادھورا نہ چھوڑے  اور زندگی کی شروعات ہی پس ماندگی سے نہ ہو۔

"خواتین اساتذہ  کا تناسب 47.17 فیصد تک پہنچ گیا"

اسی طرح طویل عرصے تک کام اور تعلیم کے حقوق سے محروم رکھی گئی خواتین کا  شعبہ تعلیم میں اپنے حق بجانب  مقام تک پہنچنا ہمارے  لیے بہت اہم ہے۔ اب  یونیورسٹیوں میں خواتین اکیڈمیشنز کا تناسب 47.17 فیصد تک پہنچنے پر ہمیں بڑی خوشی ہے۔

"ہم دنیا کے سب سے وسیع  پیمانے کی اعلی تعلیم کے حامل کنبوں والے ممالک میں سے ایک ہیں"

ترکیہ کی حیثیت سے ہمارے تقریباً 6.3 ملین طلبہ، 208 یونیورسٹیاں اور ایک لاکھ 90 ہزار اکیڈمک عملہ ہے، جن کے ساتھ ہم دنیا کے سب سے بڑے ہائر ایجوکیشن خاندانی ممالک میں سے ہیں۔ آزاد اداروں کی درجہ بندیوں کو دیکھنے پر مضامین اور ریویو طرز کی اشاعتوں کی تعداد میں ہم 213 ممالک میں 15 ویں مقام پر ہیں۔ خاص طور پر ہماری تحقیقاتی یونیورسٹیوں کی معیاری اشاعتوں کا تناسب 79 فیصد کے ساتھ OECD کے اوسط تک پہنچ گیا ہے۔

"ہماری 6 یونیورسٹیاں پہلی 500 میں شامل ہوئیں"

بین الاقوامی درجہ بندیوں میں ہمارا مقام بھی ہماری پیش رفت کو عالمی پیمانے پر تسلیم کرتا ہے۔ 2026 میں، جن میں سے دو پہلی 300 میں شامل ہیں، مجموعی طور پر 6 ہماری یونیورسٹیاں پہلی 500 میں آئیں۔ درمیانی مدت میں ہمارا ہدف ہے کہ کم از کم 2 یونیورسٹیاں دنیا کی پہلی 100 یونیورسٹیوں میں شامل ہوں۔ میں ان اساتذہ کو اس کامیابی پر ایک بار پھر مبارکباد دیتا ہوں اور مزید  کامیابیوں و کامرانیوں کا دعا گو ہوں ۔

میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ یہ اعداد و شمار بلاشبہ اہم ہیں؛ مگر ہمارے نظر میں یہ کافی نہیں ہیں۔ ہم کسی بھی پیشہ ورانہ مفاد کو علم، تحقیق اور انسانیت کے مشترکہ خزانے میں منفرد شراکت کرنے کے جوش پر فوقیت نہیں دے سکتے۔ ہم اپنے اساتذہ سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ دورِ حاضر کو معنی دینے والے خیالات، تصورات، ماڈلز، نظام اور تکنیکی جدتیں بھی تیار کریں۔ جامعات  کا اصل مشن ایک دوسرے کی تکرار کرنے والے، صرف حوالہ اور اقتباسات پر مبنی کاموں کے بجائے نئے تھیسس، نئے دلائل اور آزمائش کے منتظر نئے خیالات پیش  کرنے پر مبنی ہونا چاہیے۔

ان خیالات کے ساتھ میں 2026-2027 علمی سال کے دوبارہ خیر و برکت کا وسیلہ بننے کا دعا گو ہوں۔

 

دریافت کیجیے
ریحانلی قتل عام کا ملزم گرفتار کرتےہوئے ترکیہ لایا گیا
صدر ایردوان کا  انڈونیشیا کے صدر سوبیانتو سے ٹیلیفونک رابطہ
ایردوان: ریاستِ فلسطین کو مسخ کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی
ترکیہ اور امریکہ نئی نسل کے ری ایکٹر  معاہدے کے ساتھ جوہری تعاون میں گہرائی لا رہے ہیں
ترکیہ: بیان جعلی ہے
ایردوان، ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات میں CAATSA معافی اور S-400 کے حل کو آگے بڑھائیں گے، فیدان
ترک صدر ایردوان نیویارک روانہ،جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"
ترکیہ کا حُرکش-II ترک فضائیہ کے سپرد کیا جانے والا پہلا مقامی طیارہ ہو گا
ترکیہ کی حوثیوں کی مکہ مکرمہ کے اطراف میں روکے گئے ڈراون حملے کی مذمت
ترکیہ اور آذربائیجان علاقے میں 'استحکام کے دو جزائر' کی حیثیت کے مالک ہیں، ترک وزیر خارجہ فیدان
ایردوان: "ہم نے اپنی قوم کو خطرات سے دور رکھا ہے"
ترکیہ، شعبہ توانائی میں، خودکفالت کی طرف رواں دواں
ترکیہ: ہم، سعودی عرب پر ڈرون حملوں کی مذّمت کرتے ہیں
شمالی قبرصی ترک جمہوریہ: امریکہ کا فیصلہ انتہائی  افسوسناک ہے
ترکیہ: ہم، شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں
آکنجی کی نئے سپرسونک 300 میزائل کی کامیاب آزمائش
ترکیہ کوانٹم اور خلائی ٹیکنالوجی کے لئے خصوصی فنڈ مختص کر رہا ہے
شام میں دھماکہ،ترکیہ کی تعزیت
ترک دفترِ خارجہ کی طرف سے ملادچ کے لیے آخری رسومات کے خصوصی اہتمام پر رد عمل