صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ ترکیہ کی میزبانی میں ہونے والا 36واں نیٹو اجلاس کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، اور اس موقع پر شرکت کرنے والے، منتظمین اور دارالحکومت کے رہائشیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ایونٹ کی کامیابی میں مدد کی۔
ایردوغان نے جمعرات کو ایکس پر لکھا، 'ہم نے انقرہ، کی میزبانی میں کیے گئے 36ویں نیٹو اجلاس کو کامیابی سے مکمل کیا ہے۔'
انہوں نے کہا کہ صدراتی کمپلیکس میں منعقدہ اس سربراہی اجلاس میں نیٹو کے 32 رکن ممالک کے سربراہِ مملکت اور حکومتیں، قریباً 100 وزراء، سینئر سفارتکار، بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے اور مہمان شریک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ حکام نے پورے اجلاس کے دوران اعلیٰ سطح کی سیکیورٹی یقینی بنانے اور شہریوں کے حقوق و آزادیوں کے تحفظ کے درمیان 'نظرآئےاور نازک توازن' برقرار رکھا۔
ایردوان کے مطابق، سیکیورٹی، ٹرانسپورٹ، رابطہ کاری اور عوامی نظم و نسق کے اقدامات احتیاط کے ساتھ منصوبہ بندی کیے گئے تاکہ رہنماؤں کی حفاظت ہو، شہر کی روزمرہ زندگی برقرار رہے اور بین الاقوامی برادری تک درست معلومات پہنچائی جائیں جبکہ رہائشیوں کے لیے خلل کم سے کم رکھا جائے۔
صدر نے کہا کہ صدراتی قومی لائبریری بین الاقوامی میڈیا سنٹر کے طور پر استعمال ہوئی، جہاں 1,800 افراد کے لیے ورک اسپیس، 40 ایڈیٹنگ روم اور متعدد براہِ راست نشریاتی مقامات فراہم کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2,500 سے زائد صحافیوں نے اس اجلاس کی کوریج کی، جو میڈیا کی شرکت کا ریکارڈ تھا۔ قومی نشریاتی ادارے TRT کے تعاون سے یہ ایونٹ دنیا بھر میں 96 کیمروں، 18 آؤٹ ڈور براڈکاسٹنگ گاڑیوں اور 26 مقامات سے براہِ راست نشریات کے ذریعے نشر کیا گیا۔
ایردوان نے کہا کہ اجلاس نے انقرہ کو بین الاقوامی سطح پر فروغ دینے میں بھی 'اہم حصہ' ڈالا۔
انہوں نے کہا، 'میں انقرہ کے اپنے ہم وطنوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے پورے اجلاس کے دوران برداشت اور منفرد مہمان نوازی کا ثبوت دیا، جس نے ہماری دارالحکومت کو فروغ دینے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔'
انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں، میڈیا کارکنوں، تکنیکی ٹیموں، صحت کی دیکھ بھال کے عملے، ٹرانسپورٹ کے اہلکاروں، پروٹوکول افسران اور کیٹرنگ خدمات سمیت اس ایونٹ میں حصہ لینے والے تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کیا۔
ایردوان نے کہا، 'اپنے اور اپنی قوم کی جانب سے میں ان تمام بہن بھائیوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے بے لوث محنت کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا کہ اجلاس بلا تعطل منعقد ہو۔'
صدر نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ 'نیٹو آنکارا سمٹ کی تیاری اور تنظیم میں ان کے تعاون پر مبنی انداز اور کوششوں' کے لیے ممنون ہیں۔





















