رائے
تجزیات
2 منٹ پڑھنے
اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی دو سال میں 100,000 اسرائیلیوں کے ملک چھوڑنے کا موجب بنی ہے۔ تحقیق
ایک نئی تحقیق کے مطابق، اسرائیل سے تعلیمی اور پیشہ ور افراد کی بڑی تعداد میں نقل مکانی میں اضافہ ہوا ہے، جو کہ ملک کے لیے سماجی اور معاشی خطرات کو جنم دے رہا ہے۔
اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی دو سال میں 100,000 اسرائیلیوں کے ملک چھوڑنے کا موجب بنی ہے۔ تحقیق
تحقیق نے خبردار کیا کہ مسلسل اضافے کے سنگین معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ (فائل) / Reuters

ایک نئی تحقیق کے مطابق حالیہ برسوں میں اسرائیل سے خاص طور پر ہنر مند پیشہ ور افرادکی  نقل مکانی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن میں ڈاکٹروں کا تناسب سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروپوں میں شامل ہے۔

تل ابیب یونیورسٹی کی اس تحقیق نے گزشتہ  15 سالوں کے دوران خاص طور پر 2023 کے بعد کے واقعات  کو بالائے طاق  رکھتے ہوئے نقل مکانی کے رجحانات کا جائزہ لیا،  جن میں غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کی جنگ، عدالتی اصلاحات، اور عوامی احتجاجات کے اثرات شامل ہیں۔

نتائج کے مطابق، 2023 اور 2024 میں تقریبا 950 ڈاکٹروں نے اسرائیل چھوڑ دیا، واپس لوٹنے  والوں کو شامل کرنے سے  یہ تعداد 510 بنتی ہے۔

ان میں سے دو تہائی وہ تھے جو اسرائیلی میڈیکل اسکولوں کے فارغ التحصیل تھے، جو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں زیادہ تناسب ہے۔

تحقیق نے اسرائیل کے مرکزی شماریاتی دفتر، ہائیر ایجوکیشن کونسل، وزارتِ صحت اور ٹیکس اتھارٹی کے اعداد و شمار استعمال کیے اور  نقل مکانی ، تعلیم، لائسنسنگ اور آمدنی کے رجحانات کا تجزیہ کیا۔

واپسی میں سست روی

مطالعہ کا اندازہ ہے کہ مجموعی طور پر 2023 اور 2024 میں تقریباً 100,000 اسرائیلی ملک چھوڑ گئے، جو طویل عرصے تک نسبتی استحکام کے بعد ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

محققین نے کہا ہے کہ " ان میں معالجین،  پی ایچ ڈی یافتگان اور دیگر اکیڈمک، انجینئر اور زیادہ آمدنی والا طبقہ شامل  ہے  جو کہ ایک نمایاں اور تشویشناک اضافہ ہے۔"

انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ واپسی میں سست روی انسانی سرمائے کے اخراج کو بدتر بنا رہی ہے۔

نتائج بتاتے ہیں کہ جانے والے بہت سے ڈاکٹر تجربہ کار پیشہ ور ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ "ہم نے  دیکھا ہے کہ  40 سال یا اس سے زیادہ عمر کے   معالجین ،جن کے پاس علم اور تجربہ ہے ، ملک چھوڑ رہے ہیں ۔"

تحقیق  نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل اضافے سے سنگین معاشی  مسائل پیدا  ہو سکتے ہیں۔

محققین نے کہا، "مزید اقتصادی جھٹکےممکنہ طور پر تارکینِ وطن کی تعداد میں اچانک اور تیز اضافہ کر سکتے ہیں،" اور خبردار کیا کہ یہ رجحان "ملک کے لیے انتہائی بڑا خطرہ" بن سکتا ہے۔

دریافت کیجیے
شمالی کوریا کی امریکہ-جنوبی کوریا فوجی مشقوں کے درمیان متعدد بیلسٹک میزائلوں کی آزمائش
امریکہ بین الاقوامی قواعد پر مبنی نظام کو چیلنج کر رہا ہے، یورپی یونین کونسل
امریکی میزائل کے ایرانی اسکول کے قریب گرنے کی فوٹیج سے مزید حقائق سامنے آ گئے
ایران نے 300 ملین ڈالر کی امریکی میزائل دفاعی ریڈار کو اردون میں تباہ کر دیا ہے
افغانستان اور پاکستان ان بحرانی حالات تک کیسے پہنچے؟
مارکو روبیو کا غزہ میں انتظامیہ کے قیام اور اس کے بعد بین الاقوامی فورس کی تعیناتی منصوبہ
حلال منڈیوں کے شعبے کی تجارتی سطح 7 ٹریلین ڈالر تک جا پہنچی ہے: صدرِ ترکیہ
ترکیہ اگلے سال COP31 کی میزبانی کرتے ہوئے عالمی موسمیات کے موضوع پر اپنی پوزیشن مضبوط کرے گا
اسرائیل، امریکی حمایت یافتہ اقوام متحدہ کے بل سے ریاستِ فلسطین کی حیثیت کو ہٹانے کے درپے
برطانیہ میں مساجد پر حملوں میں اضافہ مسلم نفرت میں تیزی آنے کا مظہر ہے، نگران ادارہ
غزہ کا پختہ ایمان: ایک ترک خاتون کے 24 سال
امریکہ نے نسل کشی سے متاثرہ غزہ میں امن فورس کے لیے ایک مسودہ قرار داد پیش کر دی
شاہ اردن: غزہ کی سلامتی افواج کا مینڈیٹ 'امن حفاظت' ہوگا، نہ کہ 'امن نافذ کرنے' کا
اقوام متحدہ کی اعلی عدالت کا فیصلہ: اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ فلسطینیوں تک انسانی امداد پہنچے
حماس نے غزہ میں امدادی سامان نہیں چرایا
اسرائیل نے مغربی کنارے کو ایک'بڑی جیل' بنا ڈالا
متعدد عالمی کمپنیاں غزہ میں 'نسل کشی' اور آبادی کی توسیع میں اسرائیل کی مدد کرتی ہیں: رپورٹ
پاکستان میں بار بار آنے والے سیلابوں کی وجوہات پر ایک تجزیہ
غزہ میں نظامِ آبپاشی کی تباہی کے باعث مصنوعی خشک سالی کا سامنا ہے، یونیسیف
کیا چین پاک-افغان تعلقات کے استحکام میں کردار ادا کر سکے گا؟