عالمی صمود فلوٹیلا نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے امدادی جہازوں کو تحویل میں لینا اور ایکٹیوسٹوں کو اغوا کرنا شروع کر دیا ہے۔
امدادی بیڑے کے منتظمین نے ذرائع ابلاغ کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "اسرائیل کی آج رات کی کاروائیاں خطرناک اور بے مثال شدّت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ مثلاً شہریوں کو پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے، غزّہ سے 600 میل کے فاصلے پر اور بحیرہ روم کے وسط میں اغوا کیا جانا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "یہ کاروائی قزاقی ہے، جزیرہ کریٹ کے کھُلے سمندر میں انسانوں کی غیر قانونی گرفتاری ہے اور اسرائیل کا 'اپنی بحری حدود سے باہر کسی بھی نتیجے یا سزا کا سامنا کئے بغیر کاروائی کرسکنے کا' ببانگ دہل دعوی ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "کسی بھی ملک کو بین الاقوامی پانیوں کا مالک بننے، اسے کنٹرول کرنے یا پھر اس پر قبضہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ لیکن اسرائیل نے جو کیا ہے وہ کلیتاً یہی ہے۔ اسرائیل اپنے کنٹرول کو باہر کی طرف پھیلا رہا اور یورپی ساحلوں کے کھُلے پانیوں میں بحیرہ روم پر قبضہ کر رہا ہے۔
