امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ جرمنی میں فورسز کم کرنے کے فیصلے کے بعد اپنی فوجی موجودگی کو “5,000 فوجیوں سے کافی حد تک کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز فلوریڈا میں صحافیوں سے کہا جب انہیں یورپ سے فوجیں واپس بلانے کے اقدام کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ہم بہت زیادہ کٹوتی کریں گے، اور ہم 5,000 سے کہیں زیادہ کم کر رہے ہیں۔”
پینٹاگون نے جمعہ کو اعلان کیا کہ جرمنی، جو یورپ میں امریکی فوج کا سب سے بڑا مرکز ہے، میں افواج کم کی جا رہی ہیں۔
ایران کی جنگ اور ٹیرفز کے بارے میں اختلافات نے واشنگٹن اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان تناؤ کو گہرا کر دیا ہے۔
پینٹاگون کے ایک ترجمان نے جمعہ کو کہا کہ امریکی وزیر دفاع نے جرمنی سے تقریباً 5,000 فوجیوں کی واپسی کا حکم دے دیا ہے۔
یہ اقدام ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد آیا ہے جن میں انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ واشنگٹن ملک میں اپنی فوجی موجودگی کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔
یہ بیانات اس وقت آئے جب جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایران کی جنگ میں امریکی حکمت عملی میں واضح اخراجی منصوبہ نہ ہونے پر امریکہ پر تنقید کی اور کہا کہ مذاکرات کے دوران ایرانی قیادت امریکیوں کو “ذلیل” کر رہی ہے۔
دریں اثنا، ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے مسلح افواج کمیٹیوں کے چیئرمینوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سینیٹر راجر ویکر اور نمائندہ مائیک راجرز نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ ہم جرمنی سے ایک امریکی بریگیڈ واپس بلانے کے فیصلے پر بہت تشویش میں ہیں۔










