ایرانی پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف "ایرانی انتظام" کے تحت کھلے گی، امریکی دھمکیوں کے ذریعے نہیں، اور یہ انتباہ ایران پر امریکی حملوں کی ایک نئی لہر کے بعد دیا گیا۔
قالیباف نے ایکس پر لکھا: "امریکہ نے اب تک یہ نہیں سیکھا کہ دھمکیاں دینا اور وعدہ خلافی کرنا اب اس کی قیمت چکائے بغیر نہیں رہتا۔"
انہوں نے کہا: "واضح طور پر بتا دوں: اگر آپ حملہ کریں گے تو آپ کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔"
قالیباف نے واشنگٹن کو ہرمز کے حوالے سے تہران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش نہ کرنے کی بھی وارننگ دی۔
انہوں نے کہا: "آبنائے ہرمز صرف ایرانی انتظامات کے تحت کھلے گی، امریکی دھمکیوں کے تحت نہیں۔" انہوں نے مزید کہا: "فضول حرکتیں مت کیجیے، ورنہ آپ مزید پستے جائیں گے۔"
امریکہ نے جنوبی شعبوں کو نشانہ بنایا
یہ بیانات اسی وقت سامنے آئے جب ایرانی میڈیا نے بدھ کی دیر رات رپورٹ کیا کہ امریکہ نے ایران کے جنوبی اور جنوب مشرقی حصوں میں متعدد مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کی ایک نئی لہر چلائی۔
بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے کہا کہ امریکی افواج نے مزید حملے کیے ہیں جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا تھا۔
دریں اثنا پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے حملوں کو دہرایا تو وہ وسیع تر ردعمل کا باعث بنے گا۔
پاسداران نے کہا کہ اگر واشنگٹن نے مزید حملے کیے تو ان کی جوابی کارروائی خطّے بھر میں دیگر امریکی اڈوں تک بھی پھیل سکتی ہے۔

















