مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
امریکہ-ایران معاہدے کے بعد پہلا تصادم: کیا معاہدے کو توڑ دیا گیا ہے؟
امریکہ نے ایران کے میزائل گوداموں پر حملہ کیاجس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی اڈوں پر حملہ کیا
امریکہ-ایران معاہدے کے بعد پہلا تصادم: کیا معاہدے کو توڑ دیا گیا ہے؟
امریکہ اور ایران کے پرچم (آرکائیو)

ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ، سفارتی مذاکرات کے نئے دور کے چند روز قبل فوجی طور پر آمنے سامنے آگئے۔ باہمی حملوں نے تنازع کے 120ویں روز کے موقع پر خطے میں کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز پر ہونے والے ڈرون حملے کے بدلے کے طور پر اُس نے ایران کی میزائل اور ڈرون گوداموں کو نشانہ بنایا؛ جبکہ تہران نے اس اقدام کو حال ہی میں دستخط شدہ متفقہ معاہدے کی واضح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خطے میں امریکی عسکری مقامات پر حملے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دو طرفہ جوابی حملے

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ہرمز میں جہاز پر حملے کے ذمہ دار قرار دینے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے بعد کارروائی شروع کی۔

امریکی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے ایرانی ساحلی ریڈار اسٹیشنز اور میزائل و ڈرون گوداموں  کے مقامات کو نشانہ بنایا ہے اور آپریشن کی تصویریں جاری کیں۔

امریکی نائب صدر جی ڈی وینس نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایسے حملوں کا اسی سختی سے جواب دیتی رہے گی۔

حملوں کے فوری بعد ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورسز نے جلدی کارروائی کی۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے آبنائے ہرمز  کے قریب سِرِک شہر اور جزیرہ قشم کے اطراف کو ہدف بنائے جانے کی تصدیق کی جبکہ بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کو کوئی نقصان نہ پہنچنے کی اطلاع بھی دی گئی۔

پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کے اقدام کے جواب میں علاقے میں موجود امریکی افواج کے ٹھکانوں کو ہدف بنایا جانے کا اعلان کیا۔ تہران کی سیاسی قیادت نے بھی حملوں پر سخت  بیانات دیے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ امور کمیشن کے صدر ابراہیم عزیزی نے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ مذاکرات کے عین بیچ میں حملہ کرکے اس نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ سفارتکاری کے پابند نہیں ہے۔

آبنائے  ہرمز میں داؤ پیچ

اس  تازہ بحران نے  عالمی توانائی کی ترسیل کے سب سے حساس نقطے آبنائے  ہرمز پر کنٹرول کی کشمکش کو دوبارہ  سے شہہ دلائی  ہے۔

تہران کا موقف ہے کہ دستخط شدہ تازہ معاہدہ انہیں آبنائے  ہرمز سے گزرنے والے  جہاز وں پر مکمل کنٹرول کا اختیار دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران ہرمز کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں سب سے بڑا سفارتی ہتھیار اور ایک مؤثر بازداشت عنصر کے طور پر دیکھتا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے فریقین سے اپیل کی کہ آبنائے  ہرمز کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور دستخط شدہ تمام معاہدوں کی پاسداری کی جائے۔

لبنان کی سرحد پر نیا فریم ورک معاہدہ

علاقے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے درمیان واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے مابین سفارتی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔

امریکہ کی قیادت میں چلنے والی گفتگو کے نتیجے میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان تنازعے کے چکر کو ختم کرنے کے مقصد سے ایک فریم ورک معاہدہ دستخط کیا گیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جاری کردہ تحریر کے مطابق حزبِ اللہ جیسی ریاستی نہ مانی جانے  والی جماعتوں کو غیر مسلح بنانے کے عمل کے بعد اسرائیلی فوج لبنان کی سرزمین سے بتدریج پیچھے ہٹے گی۔

تاہم لبنان میں حزبِ اللہ کے ایک حلقے نے کہا کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر اسرائیل کے مفادات کی خدمت کرتا ہے اور اس نے اس دستاویز کو مسترد کر دیا۔

معاہدے پر دستخط کے وقت کے قریب اسرائیلی فوج کی لبنان سرحد کے نزدیک مارکابا قصبے کے اطراف پر بمباری جاری رہی، جس نے خطے میں جنگ بندی کی کوششوں کی نازک نوعیت کو دوبارہ نمایاں کر دیا۔