ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے مقتول سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نعش جمعرات کو شمال مشرقی ایرانی شہر مشہد پہنچ گئی، جہاں ان کی تدفین متوقع ہے۔
اِسنا نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں دکھایا گیا کہ ایرانی فوجی لڑاکا طیارے اُس پرواز کی ہمراہی کر رہے تھے جس میں خامنہ ای کا تابوت اور ان کے اہل خانہ کے افراد سوار تھے، اور یہ طیارہ مشہد کے شہید ہاشم نژاد ہوائی اڈے پر اترنے سے کچھ دیر قبل پہنچا۔
ایران ان کے آبائی شہر میں خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں کر رہا ہے، اس سے پہلے تہران، قم اور عراق کے بعض شہروں میں سوگواروں کی شرکت کے ساتھ جنازے نکالے گئے تھے۔
خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر ہونے والے ایک مشترکہ امریکی-اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد ہفتوں پر محیط جنگ اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
جنازے کی رسومات 4 جولائی کو شروع ہوئیں، جن میں خطے اور دیگر ممالک کے غیر ملکی رہنماؤں اور سرکاری وفود نے مرحوم سپریم لیڈر کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
سرکاری شیڈول کے مطابق عوامی الوداعی رسومات کے بعد پیر کے روز تہران میں مرکزی جنازہ جلوس نکالا گیا۔
8 جولائی کو بغداد، نجف اور کربلا میں تقاریب منعقد ہوئیں، جہاں لاش کو مذہبی اور سیاسی شخصیات نے وصول کیا اور پھر اسے بڑے شیعہ مزارات کی طرف منتقل کیا گیا۔
آخری جنازہ اور تدفین کی تقریب جمعرات کو مشہد کے امام رضا کے روضے میں شیڈول ہے، جو ایران کے اہم شیعہ مقدس مقامات میں سے ایک ہے۔





















