علاقائی حکام نے تصدیق کی ہے کہ جنوب مغربی کولومبیا میں سونے کی ایک غیر قانونی کان میں تودہ گرنے کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں اب ختم ہو چکی ہیں۔
یہ حادثہ ایک ساحلی صوبے نارینو میں، جو ایکواڈور کی سرحد کے ساتھ واقع ہے، سانتا باربرا ڈی اسکوانڈے کے دیہی علاقے چیمبیرو سیکٹر میں پیش آیا۔
نارینو کے امن و سلامتی کے سیکرٹری ایلکس گونزالیز نے کاراکول نیٹ ورک کو ہلاکتوں کی نئی تعداد کی تصدیق کی اور بتایا کہ مزید بچ جانے والے افراد کو تلاش کرنے کی کوششیں ختم کر دی گئی ہیں۔
سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر شیئر کی جانے والی ویڈیو فوٹیج میں مقامی رہائشیوں اور ایک کھدائی کرنے والی مشین کو تباہ شدہ کان سے لاشیں نکال کر قریبی دریا میں موجود ایک لکڑی کی کشتی میں منتقل کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
گورنر کے دفتر کا کہنا ہے کہ ہنگامی امدادی ٹیموں کو ناہموار جغرافیائی حالات اور غیر قانونی مسلح تنظیموں کی سرگرم موجودگی کی وجہ سے اس دور دراز حادثے کی جگہ تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
نارینو غیر قانونی کان کنی کا ایک قائم شدہ گڑھ ہے، جہاں مسلح گروہ منشیات کی اسمگلنگ اور بھتہ خوری کے دھندوں کے ساتھ ساتھ سونے کی خفیہ تجارت پر بھی اپنا کنٹرول رکھتے ہیں۔
سانتا باربرا ڈی اسکوانڈے کے رہائشیوں نے سونا چوری کرنے یا ریاستی سکیورٹی فورسز اور حریف دھڑوں کے ساتھ تعاون کرنے کے شبہ میں مسلح گروہوں کی جانب سے ٹارگٹ کلنگ کی بھی اطلاع دی ہے۔
دیہی کولومبیا میں کان کنی کے حادثات معمول کی بات ہیں، جہاں غیر منظم سرگرمیوں میں بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور ہنگامی حفاظتی انتظامات کی ہمیشہ کمی رہتی ہے۔
یہ سانحہ اگست میں نارینو کے ہی ایک قصبے پولیکارپا میں اسی طرح کی ایک کان بیٹھنے کے واقعے کے بعد پیش آیا ہے جس میں 13 افراد ہلاک ہو ئے تھے۔

















