مشرق وسطی
4 منٹ پڑھنے
ایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
تہران نے ریاض کی بیانات کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا کی سعودی عرب پر حملوں کیلئے حوصہ افزائی کرتے ہوئے ان سے تعاون کر رہا ہے۔
ایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
سعودی عرب کے جنوبی ریاض میں تیل کی ایک تنصیب میں لگی آگ سے دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔ / AP Archive

ایران نے یمن کے حوثیوں کے حملوں سے کسی بھی قسم کے تعلق سے انکار کیا ہے، یہ اعلان سعودی عرب کے بیان  کہ ایران نے ملیشیا کو ملک  کے خلاف حالیہ کشیدگی بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی تھی، کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی دعوے کو مسترد کرتا ہے کہ ایران نے یمن می ن حوثی کارروائیوں میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔

بقائی نے کہا کہ حوثی ملیشیا اپنے مفادات اور اندازوں کے مطابق عمل کرتے ہیں اور ایرانی مداخلت کے بارے میں دعوے قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران کشیدگی میں اضافہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں سمجھتا۔

جب سے جولائی میں یمن کی خانہ جنگی دوبارہ بھڑک اٹھی ہے، ایران کے حامی مسلح گروپ نے بارہا سعودی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن میں بحیرہ احمر کے ٹینکر، تیل کے ادارے اور ریاض کابین الاقوامی ہوائی اڈہ شامل ہیں، جہاں پچھلے ہفتے ایک حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ریاض کا کہنا ہے کہ اس کے ہوائی اڈوں پر حملوں میں کل 19 افراد ہلاک اور 360 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

سعودی قیادت کی حامل عسکری اتحادی فورس نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کی ہے، اور جمعہ کو بتایا کہ انہوں نے مزید میزائل اور ڈرون سرنگوں کیے ہیں کیونکہ مملکت حوثی ملیشیا کے مسلسل حملوں کی زد میں ہے۔

ایک روز قبل، سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا تھا کہ ایران نے کشیدگی کی «حوصلہ افزائی» کی، جبکہ تہران نے اس کی تردید کی۔

سعودی عہدیدار، ڈپٹی منسٹر برائے عوامی سفارتکاری رائد کریملی نے کہا تھا کہ حالیہ فائرنگ کی نئی لہر کے آغاز پر حوثیوں نے عمان میں ملاقات کی پیشکش کو رد کر دیا تھا۔

بقائی نے دونوں فریقوں کے درمیان مصالحت کی پیشکش کو دہرایا اور کہا کہ تہران "ہمیشہ سے اپنے اچھے روابط استعمال کرنے کے لیے تیار رہا ہے تاکہ تنازعات کے خاتمے میں مدد کی جا سکے"۔

بیلسٹک میزائل تباہ

جمعہ کو سعودی قیادت کی حامل عسکری اتحادی فورس کے ایک ترجمان نے کہا کہ انہوں نے"جنوبی علاقے اور ریاض میں تین ڈرون اور بحیرہ احمر پر دو کروز میزائل ناکارہ بنائے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "گزشتہ چند گھنٹوں میں ہم نے ینبع کے اوپر ایک بیلسٹک میزائل تباہ کیا"، ینبع بحری احمر کے ساحل پر واقع ایک شہر ہے جہاں ایک بڑی تیل پائپ لائن کا اختتامی حصہ ہے۔

حوثی ملیشیا کے حملے اسوقت بڑھ گئے ہیں جب گروپ نے ستمبر میں یمن میں تیز رفتار جارحانہ کارروائی شروع کی، اور بحیرہ احمر کے ساحل پر ایسے اسٹریٹجک حکومتی علاقے قبضے میں لے لیے جو عالمی شپنگ کے لیے ایک اہم تنگ گزرگاہ کے کنارے واقع ہیں۔

سعودی عرب، جو دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ہے، اس دباؤ کا سامنا کر رہا ہے جبکہ عالمی توانائی منڈی پہلے ہی فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کے وسیع تنازعے کے آغاز پر ایران کی جانب سے تنگِ ہرمز کو بند کرنے سے پریشان تھی۔

سعودی وزارت خارجہ کے رائد کریملی نے جمعرات کو ایران پر الزام لگایا کہ وہ "حوثی ملیشیا کو ہتھیار، تربیت اور حمایت فراہم کرتا رہتا ہے، جو اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے"۔

یمنی سرکاری افواج نے سعودی فضائی تعاون کے ساتھ حوثی ملیشیا سے چھینے گئے علاقوں کو واپس لینے کے لیے جوابی کارروائی شروع کی ہے، مگر اب تک وہ حوثیوں کی حاصل کردہ پیش رفت کو واپس نہیں پلٹا سکے۔

جمعہ کو عدن، جو حکومت کا عبوری دارالحکومت ہے، کے مقامی سکیورٹی دفتر نے کہا کہ دو میزائل شہر کے ہوائی اڈے کے احاطے میں گرے،  تاہم اس حملے میں کوئی ہلاک نہیں ہوا۔

ایک روز قبل، ملیشیائی گروپ نے عدن میں صدارتی محل پر ایک مہلک میزائل حملہ کیا تھا، جس میں صحت کے وزیر کے مطابق پانچ افراد ہلاک اور 16 زخمی ہو گئے تھے۔

یمنی وزیرِ اعظم شایع الزندانی نے ایکس پر اس فعل کو «بزدلانہ» قرار دیتے ہوئے مذمت کی اور کہا کہ یہ «(حوثیوں کے) مجرمانہ پیٹرن کا تسلسل» ہے۔

ایک سرکاری وزیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ حوثیوں نے محل کے کمپلیکس میں قائم یمنی اور سعودی اتحاد کی کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا۔

حوثیوں سے منسلک میڈیا نے کہا کہ حملے کا ہدف "عدن کے محل المعاشِق میں سعودی افسران کی قیادت میں فوجی آپریشنز کا ہیڈکوارٹر" تھا۔