یورپی یونین اور کینیڈا نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کی شدید مذمت کی اور اس کے ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
اتوار کے روز الگ الگ بیانات میں، یورپی یونین کی سفارتی سروس اور کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ سفارت کاروں اور فلسطینی شہریوں کا تحفظ کرے اور مزید تشدد کو روکے۔
یورپی بلاک نے کہا کہ "یورپی یونین مغربی کنارے میں پرتشدد آباد کاروں کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے، جن میں یورپی سفارت کاروں پر ہونے والے حملے بھی شامل ہیں۔
اگرچہ کئی اسرائیلی نمائندوں کی جانب سے ان حملوں کی مذمت کا اعتراف کیا گیا تاہم، یورپی یونین نے مکمل احتساب فلسطینیوں اور صحافیوں کے خلاف تشدد اور ہراساں کیے جانے کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
یورپی یونین نے اسرائیل پر یہ زور بھی دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی حقوق کے قوانین کی مکمل تعمیل کرے اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع کو روکے۔
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے رام اللہ کے مشرق میں واقع طیبہ کے قریب ہونے والے حملے کو آباد کاروں کے تشدد کے ایک وسیع تر سلسلے کا حصہ قرار دیا جو فلسطینی برادریوں کے لیے خطرہ ہے اور امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ کینیڈا، یورپی یونین اور ہمارے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر مغربی کنارے میں پرتشدد آباد کاروں کے حالیہ حملے کی مذمت کرتا ہے جس میں بیلجیم، فرانس اور پولینڈ کے سفارت کاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی پولیس کی تحقیقات کا خیرمقدم کرتے ہوئے آنند نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت، احتساب کو یقینی بنائے اور سفارت کاروں و شہریوں کا تحفظ کرے۔
یہ سفارتی وفد زیتون کی چُنوائی کے سیزن کے دوران علاقے کا دورہ کر رہا تھا جس میں فرانسیسی اور بیلجیئن قونصل جنرل، ایک پولش نمائندہ اور کیتھولک چرچ کے حکام شامل تھے۔
نقاب پوش اسرائیلی آباد کاروں نے وفد کا گھیراؤ کیا اور بیلجیئم کی قونصلر گاڑی کا شیشہ توڑ دیا۔
اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے رپورٹ کیا کہ فوج اور پولیس واقعے کے چند منٹ کے اندر بھیجی گئی فوٹیج اور وفد کی لوکیشن موصول ہونے کے تین گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے۔
دوسری جانب، اپوزیشن جماعت 'اسرائیل بیتینو' کے رہنما ایویگاڈور لیبرمین نے نیتن یاہو اور ان کے وزرائے دفاع و قومی سلامتی پر آباد کاروں کے حملوں کو روکنے میں ناکامی کا الزام لگایا اور متنبہ کیا کہ ان کی یہ بے عملی اسرائیل کے لیے بین الاقوامی حمایت کو کمزور کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ اس ماہ کے شروع میں زیتون کی چُنوائی کا سیزن شروع ہونے کے بعد سے فلسطینیوں اور ان کی املاک پر آباد کاروں کے حملوں میں شدت آئی ہے۔



















