غزہ میں ایک زخمی طبی کارکن کی مدد کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے بچے کے آخری لمحات
مشرق وسطی
غزہ میں ایک زخمی طبی کارکن کی مدد کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے بچے کے آخری لمحات
15 ستمبر کو فلسطینی بچہ محمد عبدالرحمن الزیناتی ریسکیو ورکر شریف شادی لباد کو بچانے کی کوشش کے دوران ایک رہائشی علاقے پر دوہرے فضائی حملے میں خود بھی مارا گیا۔

اسرائیلی فوج نے شہری دفاع کے کارکن شریف شادی لباد کو بچانے کی کوشش کرنے والے ایک فلسطینی بچے کو ایک دہرے حملے میں نشانہ بنا کر شہید کر ڈالا۔ شیخ رضوان محلے میں پہلے فضائی حملے میں زخمی ہونے والے لباد کی مدد کے لیے اس کی جانب بڑھنے والا محمد عبدالرحمن الزیناتی نامی بچہ دوسرے حملے میں نشانہ بنائے جانے کے بعد اللہ کو پیارا ہو گیا۔

محمد کا غمزدہ باپ، اپنے بیٹے کی کفن میں لپٹی لاش کے پاس کھڑا، پُر نم آنکھوں سے الوداع کہہ رہا ہے۔ فلسطینی ذرائع اس واقعے کی سویلین علاقے میں ابتدائی امداد فراہم کرنے والی ٹیموں کو ہدف والے"دہرے حملے" کے طور پر تشریح کرتے ہیں۔




مزید ویڈیوز
غیر قانونی یہودی آباد کار نے ایک فلسطینی خاتون پر لاٹھی سے حملہ کر دیا
یہودی آباد کار فلسطینی کسانوں کو ان کی زمینوں کے قریب حراست میں لے رہے ہیں
غزہ میں 3 سال کے طویل وقفے کے بعد باقاعدہ تعلیم کا دوبارہ آغاز
سیوتا میں پولیس کی طرف سے تارکینِ وطن کو ساحلوں سے دور ہٹانے پر افراتفری مچ گئی
فلسطینی فنکاروں نے امریکی ریپر میکل مور کی دیوار پر تصویر کشی کی
بن گویر نے مسجد اقصیٰ کے قریب مذہبی رسومات میں غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے ہمراہ شرکت کی
اسرائیل کے حق میں ریلی کے دوران فلسطینی پرچم لہرانے پر مخالف گروہوں کے درمیان ہاتھا پائی
اسرائیلی انتہا پسندوں نے 'NAZA' فلم کے ہدایت کار کے کنبے کے مکان کو نشانہ بنایا
اسرائیلی افواج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں چھاپے کے دوران ایک فلسطینی کو گولی مار کر زخمی کر دیا
اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہونے والے 20,000 معصوم فلسطینی بچوں کے نام ایک طویل کفن پر درج کیے گئے