چار سال سے زائد عرصے پر محیط اس تنازع کے دوران یہ حملہ ملک میں بیک وقت شہریوں کے سب سے بڑے جانی نقصان کا حامل حملہ ثابت ہوا ہے۔
اتحادی ترجمان: زخمیوں میں سات سعودی شہری شامل ہیں، جن میں دوسرے درجے کے جُلسن کا شکار ہونے والی ایک خاتون اور چار سالہ بچہ بھی شامل ہیں، جبکہ دیگر زخمیوں میں ایک یمنی، دو مصری اور ایک پاکستانی شہری ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے (AFP) سے بات کرتے ہوئے فوجی ذرائع نے نجران کے علاقے میں ہونے والے ان حملوں کے وقت پر توجہ مبذول کرائی۔ ذرائع کے مطابق یہ حملہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے یمن کے وسطی اور مشرقی اضلاع میں ہونے والی ان خونریز کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے کچھ ہی گھنٹے بعد ہوا جن میں 58 اہلکار ہلاک اور 50 افراد زخمی ہوئے تھے۔