تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایسے میں کہ جب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بارے میں ایک نیا مذاکراتی دورآج بروز اتوار شروع ہونے والا تھا اور ایرانی مذاکرات کار اور امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس میزبان شہر سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے تھے تہران نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یورپ کے لیے پرواز سے قبل صحافیوں سے بات چیت میں وینس نے کہا ہے کہ "ہم،جوہری مسئلے پر اور لبنان میں جنگ بندی کے مسئلے پر پیش رفت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ دو بڑے موضوعات ہیں جن پر ہماری توجہ مرکوز رہے گی"۔
اگلا مذاکراتی دور جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونا تھا لیکن لبنان پر اسرائیلی حملوں اور کئی انسانوں کی ہلاکت کے بعد،آخری لمحے میں ملتوی کر دیئےگئے ہیں۔
بعد ازاں واشنگٹن نے جمعہ کے روز ایک نئی جنگ بندی کا اعلان کیا جو ایران کے ساتھ اس کے ابتدائی معاہدے کی شرط تھی تاہم اسرائیل نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لبنان پر مہلک حملے جاری رکھے۔
امریکہ کی طرف سے'معاہدے کی خلاف ورزی' اور 'جنوبی لبنان میں صہیونی ریاست کی طرف سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں'کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کے مرکزی فوجی کمانڈ نے کہا ہے کہ "آبنائےہرمز کو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا جائے گا"۔
ہرمز، جو تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جنگ کے بیشتر حصے میں ایران کی جانب سے بند رہا، جس کے باعث توانائی کی عالمی مارکیٹوں میں ہلچل مچ گئی۔
تہران نے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اس ابتدائی معاہدے کے تحت رضامندی ظاہر کی تھی جس پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان نے دستخط کئے تھے اورجو بحری آمد و رفت کی بحالی کی جانب بڑھ رہا تھا۔
ایران کے اعلان کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہےکہ بین الاقوامی راستے کے ذریعے محفوظ سیر و سفر'بدستور برقرار' رہا ہے اور امریکی افواج 'حاضر اور چوکس' ہیں۔
بعد ازاں ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات کار معاہدہ مکمل کرنے میں ناکام رہے تو واشنگٹن خود ہرمز پر ٹول لگا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ " امریکہ کی جانب سے اور امریکہ کے نام پر عائد نہ ہونے کی صورت میں ہرمز میں سیر و سفر مفت ہو گا"۔
سوئٹزرلینڈ میں پیش قدمی
ایران کے مقامی ذرائع ابلاغ اور سوئس وزارتِ خارجہ نے ایک ایرانی وفد کے ہفتے کو رات دیر گئے سوئٹزرلینڈ پہنچنے کا اعلان کیا ہے۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہےکہ وفد معاہدے کے تحت 'مقابل فریق کے ذمہ داریوں کو پورا کرنے 'کا مطالبہ کرے گا۔بصورت دیگر تمام مفاہمت خطرے میں پڑ جائے گی"۔
وینس اتوار کی صبح سوئٹزرلینڈ کے ایمین ایئر بیس پہنچے۔ قبل ازیں جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ صرف 'ایک یا دو دن' رک سکتے ہیں۔
وینس نے ہفتہ کے روز فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ "سب چیزیں ٹھیک چل رہی ہیں۔ امریکی مذاکرات کار جیرڈ کشنر اور اسٹیو وِٹکوف پہلے سے وہاں موجود ہیں اور کچھ تکنیکی پہلو سنبھال رہے ہیں"۔
پاکستان نے کہ جو ثالثی میں مدد کر رہا ہے اتوار کو کہا ہےکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فوج کے سربراہ عاصم منیر اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں جن میں امریکی اور ایرانی نمائندے اور قطر کے دیگر ثالثان شامل ہیں۔
مذاکرات کا مقصد ابتدائی معاہدے میں غیر حل شدہ مسائل، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام، پر بات چیت کے لیے دو ماہ پر محیط مذاکراتی مدت کا آغاز کرنا ہے۔













