امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے جنگ کو ختم کرنے کے مقصد سے ایران کی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔
صدارتی گاڑیوں کے قافلے میں سوار ہونے سے پہلے جب نامہ نگاروں نے ٹرمپ سے اس معاہدے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس پر دستخط ہو گئے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایران کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ دونوں ممالک کے صدور کے دستخط کے بعد امریکہ کے ساتھ 14 نکات پر مشتمل مفاہمت کی یادداشت کو باقاعدہ حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
ایران کی نیم سرکاری مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعرات کی صبح بتایا کہ تہران اور واشنگٹن دونوں کی جانب سے دستخط کیے جانے کے بعد "اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت" مکمل طور پر سرکاری شکل اختیار کر چکی ہے۔
بقائی نے کہا کہ اس معاہدے پر ڈیجیٹل طریقے سے دستخط کیے جائیں گے اور انہوں نے تصدیق کی کہ اس یادداشت کے تحت ہونے والے مذاکرات کا مرکز صرف جوہری مسائل اور پابندیوں کا خاتمہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں فریق 60 دنوں تک بات چیت کریں گے، اور اگر مسائل کی پیچیدگی کی وجہ سے ضرورت پڑی تو مذاکرات کے وقت میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
ترجمان نے یہ بھی کہا کہ بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی حملوں اور ایران کے جوابی کارروائی کے خطرات کے بعد ہونے والے ہنگامی مذاکرات کے نتیجے میں، امریکہ نے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے اپنے وعدوں پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی بحری جہاز "بغیر کسی مسئلے کے" بندرگاہوں پر آ جا رہے ہیں، جو اس بات کی نشانی ہے کہ امریکی وعدوں پر عمل شروع ہو گیا ہے۔
بقائی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کے وعدوں پر عمل درآمد اس یادداشت پر دستخط اور اس کے نفاذ کے بعد شروع ہوگا۔
دوسری طرف، ایک امریکی اہلکار نے بھی اناطولیہ ایجنسی کو تصدیق کی ہے کہ گزشتہ روز اس مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ 'ایکسپوس'کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محلِ ورسائے میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ رات کے کھانے کے دوران ذاتی طور پر اس معاہدے کی نقل پر دستخط کیے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ دستخط شدہ معاہدے کی ایک تصویر ایرانی حکام اور ثالثی کرنے والے ممالک کو بھیج دی گئی ہے۔







