کیوبا کی حکومت نے نجی سرمایہ کاری کے لیے مزید شعبے کھولنے، بیرونِ ملک مقیم کیوبن شہریوں سے زیادہ سرمایہ حاصل کرنے اور سرکاری کنٹرول کو کم کرنے کے لیے تیز رفتار اصلاحات کے ایک سلسلے کا اعلان کیا ہے۔
صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے ان اقدامات کو، جن میں سے کچھ جمعرات کو قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے ہیں، حالیہ برسوں کی سب سے اہم اصلاحات کے طور پر پیش کیا ہے۔ کیمونسٹ پارٹی کے پولیٹ بیورو نے ان تجاویز پر بحث کے لیے بدھ کو ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا۔ راول کاسترو، جنہیں حکومت کے پیچھے اصل طاقت سمجھا جاتا ہے، نے اجلاس کو بھیجے گئے ایک خط میں ان تجاویز کی حمایت کرتے ہوئے انہیں "اس وقت انقلاب کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند" قرار دیا۔
90 سال سے زائد عمر کے کاسترو، جن پر حال ہی میں امریکہ نے تین دہائیاں قبل دو سویلین طیارے گرانے کے الزام میں فردِ جرم عائد کی ہے، اپنے بھائی فیدل کے بعد 2006 سے 15 سال تک ملک کے سربراہ رہے ہیں۔
یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ اصلاحات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مطمئن کریں گی یا نہیں، جو کیوبا کے رہنماؤں کی نہیں تو کم از کم اس کے معاشی ماڈل میں تبدیلی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
جنوری میں ٹرمپ کی طرف سے لگائی گئی تیل کی ناکہ بندی نے کیوبا کی پہلے سے کمزور معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، جس کی وجہ سے بعض اوقات 30 گھنٹے سے زیادہ کی بجلی کی بندش اور خوراک، ایندھن، پینے کے پانی اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
حکومت، جو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، نے جزیرے پر اور بیرونِ ملک مقیم کیوبن شہریوں کے لیے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کرنے کا اشارہ دیا ہے۔
وزیر اعظم مینوئل ماریلو نے واضح کیا کہ ان اصلاحات کا "کسی بھی طرح یہ مطلب نہیں کہ ریاست اپنی سماجی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے"۔ نجی کاروبار، جو 100 افراد تک کو ملازم رکھ سکتے ہیں، کو 2021 میں اجازت دی گئی تھی اور وہ جزیرے کی معیشت کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں۔ صدر ڈیاز کینیل نے کہا کہ کیوبن شہریوں کو بھی وہی شرائط دی جائیں گی جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کو حاصل ہیں، جن میں سے کچھ حال ہی میں امریکی پابندیوں کی وجہ سے کیوبا سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔
انہوں نے وزارتوں اور سرکاری ملازمین کی تعداد کم کر کے سرکاری ڈھانچے کو چھوٹا کرنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا ہے۔



