جنوبی فلپائن میں زلزلہ زدہ قصبے 'گلن' کے میئر 'وکٹر جیمز یپ' نے، زلزلے سے بری طرح متاثرہ اور لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے ایک دوسرے سے کٹے ہوئے متعدد دیہات میں فاقہ کشی کے سدّباب کے لئے بذریعہ ہیلی کاپٹر خوراک پہنچانے کی اپیل کی ہے۔
وکٹر جیمز یپ نے کہا ہے کہ ان کے علاقے میں بجلی کی ترسیل بحال نہیں ہوئی اور 100,000 سے زائد آبادی والے اس شہر کے 31 دیہاتوں میں سے 10 زیادہ تر لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے ناقابلِ رسائی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے فوری طور پر فضائیہ کے ہیلی کاپٹر تعینات کر کے متاثرہ علاقوں میں خوراک اور دیگر امداد پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔
جاری کردہ اپیل میں وکٹر نے کہا ہے کہ "ہمیں خوراک اور پانی کی ضرورت ہے مگر لینڈ سلائیڈئنگ سے متاثرہ کچھ دیہات تک زمینی راستوں سے خوراک پہنچانا مشکل ہے لہٰذا وہاں کے زلزلہ زدگان تک خوراک پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹر درکار ہیں "۔
واضح رہے کہ پیر کے روزفلپائن کے جنوبی صوبے سرانگانی کے ساحل پر 7.8 شدت سے زلزلہ آیا جو گزشتہ نصف صدی میں فلپائن کے جزائر پر آنے والے شدید ترین زلزلوں میں سے ایک ہے۔ زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 47 افراد ہلاک اور 688 زخمی ہو گئے اور 31 لاپتہ ہیں۔
زلزلے کے بعد 45,000 سے زائد لوگ بے گھر ہو گئے ہیں جن میں سے تقریباً نصف ہنگامی کیمپوں میں مقیم ہیں۔ زلزلے نے زرعی قصبوں اور شہروں میں 12,600 سے زائد گھر تباہ کر دیئے ہیں۔ صوبائی حکام نے کہا ہے کہ بار بار آنے والے ضمنی جھٹکوں کی وجہ سے کئی لوگ اتنے صدمہ زدہ ہیں کہ اپنے گھر وں میں واپس نہیں جا پا رہے۔










