اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے سینئر افسران کا خیال ہے کہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو ممکنہ طور پر غزہ کی صورتحال کو بھڑکانے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ ملک کے آنے والے پارلیمانی انتخابات میں خلل ڈالیں یا انہیں مؤخر کریں۔
اسرائیلی روزنامہ معاریو نے اسرائیلی افواج کی اعلیٰ کمان میں موجود اندازوں کا حوالہ دیا ہے کہ نیتن یاہو موجودہ جنگوں کے ختم ہونے کا خواہش مند نہیں ہیں اور انتخابات کے قریب آتے ہی وہ غزہ میں کشیدگی کو دوبارہ بڑھا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، سینئر فوجی حکام میں بڑھتی ہوئی تشویش پائی جاتی ہے کہ سیاسی مفادات مزید عسکری کارروائی کے فیصلوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ افسران نے واضح کیا ہے کہ فوج واضح سیکیورٹی ضرورت کے بغیر کسی نئی لڑائی میں کھینچی نہیں جائے گی اور کہا: "ہم کسی نئی اور غیر ضروری جنگ میں داخل نہیں ہوں گے۔"
ایک 'غیر ضروری' کشیدگی
یہ خدشات اسرائیل میں نیتن یاہو کے متعدد محاذوں کی سربراہی کے بارے میں بڑھتی بحث کے درمیان سامنے آئے ہیں اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کی طرف سے انتخابات سے قبل سکیورٹی مسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے شمالی شام میں ابو ال دھور فوجی ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملے کے بعد ترکی کے خلاف اپنی تقاریر میں حال ہی میں شدت پیدا کی ہے۔
اسرائیلی حزبِ اختلاف کے رہنماؤں، جن میں سابق وزیرِ اعظم ایہود باراک اور ڈیموکریٹس پارٹی کے رہنما یائر گولان شامل ہیں، نے نیتن یاہو پر انقرہ کے ساتھ کشیدگی جان بوجھ کر بڑھانے کا الزام لگایا ہے تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی حکام نے بھی ترکیہ کے ساتھ 'غیر ضروری' کشیدگی سے خبردار کیا ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاتز کے عوامی بیانات کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتے ہیں۔
فوج کے ساتھ مبینہ اختلاف اسی وقت سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو کو انتخابی مناظرنامے میں مشکلات کا سامنا ہے، حالیہ رائے شماری سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا حکومتی اتحاد حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہ سکتا ہے۔
اسرائیل اکتوبر میں پارلیمانی انتخابات منعقد کرنے جا رہا ہے۔















