عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈورس ایڈہینم گبریسس نے کہا ہے کہ وبا کے گڑھ 'مسافر بحری جہاز' کے مسافروں میں ہنٹا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 13 ہو گئی ہے۔
گبریسس نے بدھ کے روز ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "اسپین نے قرنطینہ میں رکھے گئے مسافروں میں ایک نئے کیس کی اطلاع دی ہے جس کے بعد مجموعی کیسوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے"۔
انہوں نے کہا ہے کہ متاثرہ افراد میں سے 3 ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم 2 مئی کے بعد سے کوئی نئی ہلاکت نہیں ہوئی۔
گبریسس نے کہا ہے کہ "صورتحال قابو میں ہے۔ بیمار مسافروں کو ضروری طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے اور دیگر افراد قرنطینہ میں ہیں"۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران وبا کا گڑھ بننے والے ایم وی ہونڈیئس نامی پُر آسائش مسافربحری جہازمیں موجود تمام مسافروں، عملے اور طبی کارکنوں کو جہاز سے اتار لیا گیا ہے۔
جہاز میں 23 ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 150 مسافر اور عملے کے ارکان موجود تھے۔ اسپین کے وزیرِ صحت نے 11 مئی کو کہا تھا کہ ایم وی ہونڈیئس پر موجود ایک ہسپانوی مسافر کا ہنٹا وائرس ٹیسٹ مثبت آیاہے۔ اس کیس کی نشاندہی حکام کی جانب سے جہاز خالی کرانے کی کارروائی مکمل ہونے سے کچھ ہی دیر بعد ہوئی ہے۔
ہنٹا وائرس چوہوں اور دیگر کترنے والے جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا اور بیماری پیدا کر سکتا ہے۔
یہ ایک ایسی بیماری ہے جو شاذ ونادر دیکھنے میں آتی ہے اور عموماً متاثرہ چوہوں یا ان کے فضلے کے ذریعے پھیلتی ہے، تاہم موجودہ وبا کا سبب بننے والی قسم انسان سے انسان میں منتقل ہو سکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال اس بیماری کے 10 ہزار سے ایک لاکھ تک انسانی کیس سامنے آتے ہیں تاہم بیماری کی شدت وائرس کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔










