عراق نے اپنی کرنسی کی قدر گِرا کے امریکی ڈالر کے مقابلے میں سرکاری شرحِ مبادلہ کو تقریباً 1,300 دینار سے تبدیل کرکے 1,500 دینار کر دیا ہے۔
عراق کے مرکزی بینک نےآج بروز بدھ جاری کردہ بیان میں کہا ہےکہ نئی شرحِ مبادلہ کو وزراء کونسل نے گزشتہ رات منعقدہ اجلاس میں’’متعلقہ مالی، اقتصادی اور مالیاتی تقاضوں‘‘ کو پورا کرنے کے لیے منظور کیا ہے۔
گزشتہ سرکاری شرحِ مبادلہ 2023 میں مقرر کی گئی تھی۔ تاہم، کرنسی ایکسچینج دفاتر میں نافذ مارکیٹ ریٹ مسلسل سرکاری شرح سے مختلف رہا اور گزشتہ چند ماہ کے دوران دونوں ریٹوں کے درمیان فرق مزید بڑھتا گیا تھا۔
اس بڑھتے ہوئے فرق کی ایک وجہ امریکہ۔ ایران جنگ بھی ہے، جو وقتاً فوقتاً عراق تک بھی پھیلتی رہی ہے۔ علاوہ ازیں آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کے نظام میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے بھی صورتحال کو متاثر کیا ہے۔
عراق بڑی حد تک تیل کی برآمدات پر انحصار کرتا ہے اور جنگ سے قبل اپنے تیل کا بڑا حصہ اسی آبنائے کے راستے منتقل کرتا تھا۔ تنازعات شروع ہونے کے بعد سے ملک نے برآمدات کے لیے تیل کو براستہ شام اور زمینی راستے سے منتقل کرنا شروع کر دیا ہےجو زیادہ مہنگا اور کم مؤثر ہے۔
کرنسی کی قدر میں کمی کا اعلان ہونے سے قبل غیر سرکاری شرحِ مبادلہ ایک ڈالر کے مقابلے میں 1,600 دینار سے تجاوز کر چکی تھی۔ اعلان کے بعد یہ شرح مزید بڑھ کر 1,700 دینار سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
نئے ضابطے کے تحت وزارتِ خزانہ ایک ڈالر 1,500 دینار کی شرح سے فروخت کرے گی، جبکہ بینکوں کے ذریعے ڈالر خریدنے والے صارفین کو ایک ڈالر کے لیے 1,520 دینار ادا کرنا ہوں گے۔



















