اسرائیل میں ایک وزارتی کمیٹی اتوار کے روز ،اوسلو معاہدوں کی منسوخی اور فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کے لئے پیش کیے گئے، قانونی بل کا جائزہ لے گی۔
چینل12 ٹیلی ویژن نے ہفتے کے روزنشر کردہ خبر میں کہا ہے کہ وزارتی قانون ساز کمیٹی، اسرائیل اور فلسطین تحریکِ آزادی کے درمیان 1993 میں طے پانے والے معاہدے کی منسوخی پر مبنی تجویز پر غور کرے گی۔
اسرائیل کے چینل 7 ٹیلی ویژن کے مطابق مذکورہ قانونی بل، کنیسٹ کی نائب اسپیکر لیمور سون ہارمیلخ نے پیش کیا ہے۔ ہار-میلیخ نے دعویٰ کیا ہے کہ اوسلو معاہدوں نے 'امن کے بجائے دہشت گردی' کو جنم دیا ہےاور اب 'قومی اصلاح' کا وقت آ چکا ہے۔
ہار۔میلیخ نے ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہم نے فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کا عہدکیا تھا اور اب وقت آ گیا ہے کہ اے اور بی علاقوں میں آبادکاری کو فروغ دیا جائے اور تباہ کن اوسلو معاہدوں کو منسوخ کیا جائے"۔
ہار۔میلیخ نے مجوزہ قانون کو مجموعی صورتحال کی اصلاح کے لیے 'پہلا اور ضروری قدم' قرار دیا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے اے اور بی علاقے' اوسلو فریم ورک کے تحت' فلسطینی اتھارٹی کی مختلف سطحوں کے انتظامی اداروں کے تابع ہیں۔
اوسلو معاہدوں کے مطابق، اے علاقہ مکمل طور پر فلسطینی انتظامیہ اور سکیورٹی کے تحت ہے، جبکہ بی علاقہ فلسطینی انتظامیہ اور مشترکہ فلسطینی۔اسرائیلی سکیورٹی کے تحت آتا ہے۔
اوسلو معاہدے، جن کا سرکاری نام "عبوری خود مختار انتظامی انتظامات سے متعلقہ اصولوں کا اعلامیہ"ہے، 13 ستمبر 1993 کو واشنگٹن میں اسرائیل اور فلسطین تحریکِ آزادی کے درمیان طے پایا تھا۔
یہ معاہدہ مرحوم فلسطینی صدر یاسر عرافات اور سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم اسحاق رابن کی موجودگی میں، اُس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کی سرپرستی میں طے پایا تھا۔

















