غّزہ جنگ
2 منٹ پڑھنے
اسرائیلی وزارتی کمیٹی اوسلو معاہدوں کی منسوخی کے بل پر بحث کرے گی
اوسلو معاہدوں نے 'امن کے بجائے دہشت گردی' کو جنم دیا ہےاور اب 'قومی اصلاح' کا وقت آ چکا ہے: لیمور سون ہارمیلخ
اسرائیلی وزارتی کمیٹی اوسلو معاہدوں کی منسوخی کے بل پر بحث کرے گی
مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے اے اور بی اوسلو فریم ورک کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے مختلف درجوں کے انتظامی کنٹرول میں آتے ہیں۔ (تصویر: فائل) / AP

اسرائیل میں ایک وزارتی کمیٹی اتوار کے روز ،اوسلو معاہدوں کی منسوخی اور  فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کے لئے پیش کیے گئے،  قانونی بل کا جائزہ لے گی۔

چینل12 ٹیلی ویژن نے ہفتے کے روزنشر کردہ خبر میں کہا ہے کہ وزارتی قانون ساز کمیٹی، اسرائیل اور فلسطین تحریکِ آزادی کے درمیان 1993 میں طے پانے والے معاہدے کی منسوخی پر مبنی تجویز پر غور کرے گی۔

اسرائیل کے چینل 7 ٹیلی ویژن کے مطابق مذکورہ قانونی بل، کنیسٹ کی نائب اسپیکر لیمور سون ہارمیلخ نے پیش کیا ہے۔ ہار-میلیخ نے دعویٰ کیا ہے کہ اوسلو معاہدوں نے 'امن کے بجائے دہشت گردی' کو جنم دیا ہےاور اب 'قومی اصلاح' کا وقت آ چکا ہے۔

ہار۔میلیخ نے ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہم نے فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کا عہدکیا تھا اور اب وقت آ گیا ہے کہ اے اور بی علاقوں میں آبادکاری کو فروغ دیا جائے اور تباہ کن اوسلو معاہدوں کو منسوخ کیا جائے"۔

ہار۔میلیخ نے مجوزہ قانون کو مجموعی صورتحال کی اصلاح کے لیے 'پہلا اور ضروری قدم' قرار دیا ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے اے اور بی علاقے' اوسلو فریم ورک کے تحت' فلسطینی اتھارٹی کی مختلف سطحوں کے انتظامی اداروں  کے تابع ہیں۔

اوسلو معاہدوں کے مطابق، اے علاقہ مکمل طور پر فلسطینی انتظامیہ اور سکیورٹی کے تحت ہے، جبکہ بی علاقہ فلسطینی انتظامیہ اور مشترکہ فلسطینی۔اسرائیلی سکیورٹی کے تحت آتا ہے۔

اوسلو معاہدے، جن کا سرکاری نام "عبوری خود مختار انتظامی انتظامات سے متعلقہ اصولوں کا اعلامیہ"ہے، 13 ستمبر 1993 کو واشنگٹن میں اسرائیل اور فلسطین تحریکِ آزادی کے درمیان طے پایا تھا۔

یہ معاہدہ مرحوم فلسطینی صدر یاسر عرافات اور سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم اسحاق رابن کی موجودگی میں، اُس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کی سرپرستی میں طے پایا تھا۔

دریافت کیجیے
اسرائیل کے غزہ کے ایک مہاجر کیمپ پر حملے میں فلسطینی شہری شہید
عرب ممالک کی انتہائی مذہب پرست اسرائیلی وزیر کی مسجدِ الاقصیٰ کا معائنہ کرنے پر شدید مذمت
اسرائیلی فائرنگ سے ایک فلسطینی ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوگئے، فائر بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری
ایم ایس ایف: اسرائیلی پابندیوں سے غزہ میں طبی سامان کی فراہمی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے
اسرائیلی فوج غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے فلسطینیوں پر حملوں کو نظر ِ انداز کر رہی ہے
اسرائیل نے غزہ میں مزید چار فلسطینی شہریوں کو شہید کر دیا
اسرائیل، فلسطینیوں کے خلاف 'اجتماعی انتقام' کے طور پر تشدد کا سہارا  لے رہا ہے، اقوام متحدہ
اسرائیل نےجنگ بندی کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے غزہ میں مزید تین فلسطینیوں کو ہلاک کردیا
اسرائیل نے غزہ میں امداد کی فراہمی معطل کر دی:اقوام متحدہ
اسرائیل کو "بائبل" سے حق حاصل ہے کہ وہ مشرق وسطی کے تمام علاقوں پر قبضہ کر لے، امریکی سفیر کا دعویٰ
نتن یاہو: 'ایپسٹین اسرائیل کے لیے کام نہیں کرتا تھا'
فلسطینیوں کا دوسرا گروپ رفح بارڈر کے راستے غزہ واپس لوٹ آیا
اسرائیل نے غزہ میں فائر بندی کے باوجود کم از کم 12 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا
اسرائیل نے غزہ میں 70,000 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کا اعتراف کر لیا
اسرائیل نے رفح کراسنگ کو 'محدود سطح پر' دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا ہے
ترکیہ: ہم اسرائیل کی مخالفت کے باوجود غزہ میں اپنے فوجیوں کی تعیناتی کے لیے تیار ہیں
ٹرمپ کی طرف سے غزہ بورڈ آف پیس کے بانی چیئر مین کے لیے ترک صدر کو دعوت نامہ
اسرائیل نے 2025 میں 42 فلسطینی صحافیوں کو گرفتار کیا، جن میں 8 خواتین شامل ہیں — رپورٹ
سال نو کے پہلے دن استنبول میں 500,000 سے زیادہ افراد کی فلسطین کی حمایت میں ریلی
غزہ میں ترک فوجیوں کی تعیناتی پر بحث کی جائے گی: ٹرمپ