غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
اسرائیلی فوج غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے فلسطینیوں پر حملوں کو نظر ِ انداز کر رہی ہے
200 ریزرو فوجیوں نے وزیر دفاع یسرائیل کاٹز اور چیف آف اسٹاف ایئل زامیر کو ایک خط بھیجا اور "یہودی دہشت گردی" کے حالیہ واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اسرائیلی فوج غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے فلسطینیوں پر حملوں کو نظر ِ انداز کر رہی ہے
اسرائیلی افواج نے 24 مارچ 2026 کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر میں ایک چھاپے کے دوران ایک فلسطینی کو تلاشی کے بعد حراست میں لے لیا۔ / AA

ہارٹز کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوجیوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کو ابتدائی انتباہات کے باوجود نظرانداز کیا۔

روزنامہ نے جمعہ کو بتایا کہ 200 ریزرو فوجیوں نے وزیر دفاع یسرائیل کاٹز اور چیف آف اسٹاف ایئل زامیر کو ایک خط بھیجا اور "یہودی دہشت گردی" کے حالیہ واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

فوجیوں نے خبردار کیا کہ فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے اسرائیلی افواج کی جانب سے بظاہر عدمِ مداخلت  اور بے حسی  کی نشاندہی کی۔

انتباہات نظرانداز، جوابی کارروائیاں تاخیر کا شکار

ایک دستخط کنندہ نے کہا کہ فلسطینی گھروں اور املاک پر حملوں کے بارے میں اکثر پہلے سے معلوم ہوتا تھا مگر دستے وقت پر مداخلت نہ کر سکے اور واقعات ختم ہونے کے بعد پہنچے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض معاملات میں افواج نے ان آبادکاروں سے بات کی جو آگ لگانے اور حملوں میں ملوث تھے، انہیں جانے کو کہا، اور اس کے بدلے موقع پر موجود فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔

اسی فوجی نے کہا کہ اصلی گولی کا استعمال ایسے فلسطینیوں کے خلاف بھی کیا گیا جو خود حملے کا شکار تھے۔

موقف میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کے الزامات

ایک اور ریزرو فوجی نے کہا کہ غزہ کی جنگ کے دوران دیکھے گئے عمل — جن میں "بے جا جارحیت، تشدد، اور فلسطینی املاک کی تباہی و لوٹ مار" شامل تھیں —  اب مقبوضہ مغربی کنارے  کے آپریشنز میں منتقل ہو گئی   ہیں۔

فوجیوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا بنیادی مشن آبادیاتی بستیوں کی حفاظت بن گیا ہے، جس کی وجہ سے فلسطینی شکایات کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے اور آبادکاروں کے خلاف سخت کارروائیوں شاذو نادر ہی ہوتی  ہیں۔

رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ ایسے حملے بی اور سی کے زمرے میں آنے والے علاقوں کے  دائرہ کار سے آگے بڑھ کر اے  زمرے کے کچھ حصوں تک پھیل گئے ہیں، جو تشدد کے دائرے کے وسیع ہونے کی علامت ہے۔

خیال رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں حالیہ ہفتوں میں تشدد میں شدت آئی ہے، اور فلسطینی حکام نے فروری کے اواخر سے غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں کی فائرنگ سے متعدد افراد ہلاک ہونے کی  اطلاعات  دی ہیں۔

تقریباً 750,000 اسرائیلی آبادکار مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں مقیم ہیں، جہاں حقوقِ انسانی  کے گروہوں کے مطابق  فلسطینیوں پر بار بار حملے بے دخلی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

اکتوبر 2023 کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد میں تیزی آئی ہے، جس میں ہلاکتیں، گرفتاریاں، مکانات کی انہدام، اور بستیوں کی توسیع شامل ہیں، اور علاقے کے ممکنہ الحاق پر بین الاقوامی تشویش بڑھ رہی ہے۔

دریافت کیجیے
امید ہے ہم کامیاب ہو جائیں گے: کالاس
ایشیاءتوانائی کے بڑے جھٹکوں کے لئے تیار ہو رہا ہے
سابق تھائی وزیراعظم شیناواترا کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا
جب تک جوہری مواد موجود ہے معاملہ ختم نہیں ہو گا: نیتن یاہو
مشرقی کونگو میں دہشتگردانہ حملے،21 افراد ہلاک
ٹرمپ کو ایران کا جواب پسند نہیں آیا،تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
روس، سلوواکیہ کو توانائی فراہم کرنے کی 'ہر ممکن' کوشش کرے گا: پوتن
اسرائیل نے عراق میں ایک خفیہ فوجی اڈّہ بنا لیا
اسرائیلی وزارتی کمیٹی اوسلو معاہدوں کی منسوخی کے بل پر بحث کرے گی
باکستان: کار بم دھماکہ اور فائرنگ، بارہ پولیس اہلکار ہلاک
چین: جاپان، انڈو-پیسیفک کو بطور پردہ استعمال کر رہا ہے
پوتن: روسی افواج نیٹو کی طرف سے مسلح اور حمایت کردہ ایک حملہ آور طاقت سے نبرد آزما ہے
ترکیہ عالمی دفاعی طاقت کے طور پر اُبھر رہا ہے، صدر ایردوان
اسرائیل نے غزہ میں ایک مکان کو نشانہ بنایا جس دوران 9 افراد زخمی ہو گئے
سعودی عرب کی فوجی آپریشنز میں اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینے کی تردید