ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ، اسرائیلی حکام کی جانب سے غزہ میں طبی ساز و سامان کے داخلے پر عائد پابندیوں نے سنگین قلت پیدا کر دی ہے، جس سے طبی خدمات شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
ڈاکٹر رندا ابو الخیر مسعود، جو ایم ایس ایف کی میڈیکل ایڈوائزر ہیں، نے کہا کہ یکم جنوری سے تنظیم غزہ میں کوئی طبی ساز و سامان داخل نہیں کر سکی، حالانکہ علاقے میں انسانی نوعیت کی شدید ضروریات ہیں۔
مسعود کا کہنا ہے کہ " روزانہ، ہمارے ہسپتالوں اور کلینکس میں ہم غزہ، فلسطین میں طبی ساز و سامان کے داخلے پر پابندیوں کے اثرات سامنے آتے ہیں۔ غزہ میں ضروریات بہت زیادہ ہیں، مگر کافی امداد داخل نہیں ہو رہی کیونکہ اسرائیلی حکام اسے روکے ہوئے ہیں۔"
انہوں نے خبردار کیا کہ غیر متعدی بیماریوں کے لیے ضروری ادویات میں سے تقریباً 50 فیصد کی سطح پر خطرناک حد تک کم ہیں، جن میں ذیابیطس، بلند فشارِ خون، تھائیرائڈ کے امراض اور سانس کی بیماریاں شامل ہیں۔
کمی کی وجہ سے، ایم ایس ایف نے غیر متعدی بیماریوں کے اپنے پروگراموں میں نئے مریضوں کا داخلہ روک دیا ہے اور علاج صرف موجودہ مریضوں تک محدود رکھ دیا ہے۔
انہوں نے کہا"مناسب نگہداشت کی اس قلت کے نتیجے میں لازمی طور پر دائمی بیماریوں کے شکار مریضوں میں ایسی اموات ہوں گی جن سے بچا جا سکتا تھا۔
تنظیم کو بنیادی طبی اشیاء جیسے گیز اور کمپریس کے فقدان کا بھی سامنا ہے، خاص طور پر بعد از آپریشن مریضوں اور جلنے کے زخمیوں کے لیے علاج معالجے کی خدمات متاثر ہو رہی ہیں ۔
گزشتہ محاصرے کے دوران، اگست اور ستمبر 2025 کے درمیان، ایم ایس ایف کی ٹیمیں غیر جراثیم کش گیز کو بیچوں میں جراثیم کش کرکے استعمال کرنے پر مجبور ہو گئی تھیں، جو کہ انفیکشن کے خطرات کی وجہ سے آخری چارہ سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ"اب ہم دوبارہ اس نقطے کے قریب ہیں۔"
طبی ساز و سامان کی قلت طبی خدمات پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے۔ مسعود نے کہا کہ اس سال غزہ میں کوئی نیا آلات یا پرزے داخل نہیں ہوئے، جس کے باعث بار بار خرابیاں پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا"ہماری ٹیمیں نگہداشت فراہم جاری رکھنے کے لیے سخت محنت کر رہی ہیں، مگر وہ انتہائی دباؤ میں ہیں،" اور زور دیا کہ ہنگامی اقدامات مستقل طبی ساز و سامان تک رسائی کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔















