پیر کو تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی اور عالمی حصص مندی کا شکار ہوئے، چونکہ سرمایہ کار مشرقِ وسطیٰ میں تصادم کے گہرے ہونے پر اپنیکاروباری کارروائیوں میں سستی لا رہے ہیں ۔ جنگ کے مزید طول پکڑنے پر خدشات بڑھ گئے ہیں جو کہ اہم توانائی راستوں کو متاثر کر سکتے ہیں ۔
خام تیل کی قیمتیں ایک موقع پر تین فیصد سے زائد بڑھ گئیں، برینٹ خام تیل تقریباً 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، کیونکہ یمن کے حوثی باغیوں کے معاملے میں شامل ہونے سے خطے میں پھیلاؤ کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
گروہ نے کہا کہ اس نے اسرائیل میں اہداف پر میزائل اور ڈرونز داغے، جس سے بحرِ احمر میں اہم جہاز رانی گزرگاہوں کی سکیورٹی کے بارے میں تشویش پیدا ہو گئی۔
برینٹ خام تیل مارچ میں تقریباً 60 فیصد کے اضافے سے دوچار ہے، جو 1990 میں عراق کے کویت پر حملے کے بعد ماہانہ اضافے سے بھی زیادہ ہے۔
توانائی کے راستے خطرات سے پُر
خطرے کی شدت آبنائے ہرمز کے اردگرد اور باب المندب کے اطراف، جہاں سے عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ سرانجام پاتا ہے، بڑھ گئی ہے ۔
سعودی عرب نے پہلے ہی آبنائے ہرمز سے بچنے کے لیے بعض تیل کی کھیپیں متبادل راستوں پرمنتقل کر دی ہیں ۔
شدت اختیار کرنے کے خدشات سے منڈیوں میں ہلچل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مزید بیانات نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو مزید ہلا کر رکھ دیا؛ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے پاس ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے متعدد اختیارات ہیں، جن میں اسٹریٹجک خارگ جزیرہ بھی شامل ہے۔
ان کے بیانات نے اس قیاس کو تقویت دی کہ امریکہ جنگ میں اپنا کردار بڑھا سکتا ہے، ممکنہ طور پر زمینی آپریشنز بھی شامل ہیں۔
ادھر ایرانی حکام نے ممکنہ امریکی فوجی شدت اختیار کرنے پر خبردار کیا ہے، جبکہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی۔
عالمی منڈیاں دباؤ کے زیرِ اثر
وال اسٹریٹ کے نقصان کی پیروی کرتے ہوئے ایشیاء اور یورپ بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی سے مندی آئی۔
تجزیہ کاروں نے انتباہ کیا کہ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں مہنگائی میں اضافہ ، سپلائی چین کو متاثر اور کمپنیوں کے منافع پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
پیپر اسٹون کے تجزیہ کار کرس ویسٹن نے سپلائی میں خلل اور جہاز رانی کے خطرات کی بڑھتی ہوئی تشویش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، 'مالی منڈیاں اب خام تیل کی بلند قیمتوں اور اقتصادی اثرات پر ردِ عمل دے رہی ہیں ۔'
کشیدگی میں اضافے اور اہم تجارتی راستوں کے خطرے میں ہونے کے ساتھ، سرمایہ کار طویل مدتی غیر مستحکم صورتحال اور وسیع اقتصادی نتائج کے لیے تیار ہیں۔










