ترکیہ
2 منٹ پڑھنے
ایردوان: دوسری عالمی جنگ کے بعد کے عالمی نظام کو اپنی مشروطیت کے بحران کا سامنا ہے
"دوسری جنگِ عظیم کے بعد جو نظام فاتحین نے قائم کیا تھا، تقریباً تمام شعبوں میں اپنی قانونی حیثیت کے بحران کا سامنا کر رہا ہے
ایردوان: دوسری عالمی جنگ کے بعد کے عالمی نظام کو اپنی مشروطیت کے بحران کا سامنا ہے
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان 27 مارچ 2026 کو STRATCOM سمٹ 2026 پروگرام کے دوران ویڈیو پیغام کے ذریعے خطاب کر رہے ہیں۔ / AA
8 گھنٹے قبل

ترک صدرکا کہنا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے فاتحین کے ذریعے قائم کیا گیا بین الاقوامی نظام آج تقریباً ہر شعبے میں قانونی جواز کا گہرا بحران محسوس کر رہا ہے۔

رجب طیب ایردوان نے استنبول میں ترک محکمہ اطلاعات کے زیرِ اہتمام منعقدہ بین الاقوامی اسٹریٹیجک کمیونیکیشن سمٹ کو بھیجے گئے ویڈیو پیغام میں کہا کہ "دوسری جنگِ عظیم کے بعد جو نظام فاتحین نے قائم کیا تھا، تقریباً تمام شعبوں میں اپنی قانونی حیثیت کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا"نظام کی بنیاد رکھنے والے ادارے، قواعد اور اقدار بتدریج اپنی کارکردگی اور افادیت کھو رہا ہے۔"

"دنیا ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے جس کی نشانیاں بڑھتی ہوئی نسل کشیوں، جنگوں اور بحرانوں کی صورت میں ہیں، جہاں توانائی، ٹیکنالوجی اور تجارت جیسے شعبوں میں طاقت کی مسابقت  وسعت حاصل کر رہی  ہے اور تنازعات کو بات چیت کے بجائے زور یا طاقت کے  بل بوتے  حل کرنے کی کوششیں بڑھ رہی ہیں۔"

صدر ایردوان نے کہا کہ "غزہ جیسی المیوں کو ختم کرنا اور بین الاقوامی سطح پر، خصوصاً ہمارے خطے میں، امن، استحکام اور خوشحالی کی بحالی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔"

انہوں نے غلط معلومات اور مسخ شدہ بیانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مواصلاتی اور تعاون کے میکانزم کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور حکومتوں، تعلیمی ماہرین، سول سوسائٹی اور فکری اداروں سے کہا کہ وہ زیادہ فعال کردار ادا کریں۔

ترک رہنما نے مزید کہا کہ "ترکیہ انسانیت کی اقدار اور انصاف پر مبنی اپنے اصولی، پُرعزم اور امن مرکز موقف کو ثابت قدمی سے برقرار رکھے گا اور نہ صرف ہمارے خطے بلکہ پوری دنیا میں امن اور سلامتی کی تعمیر نو میں مدد کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گا۔"