کیوبن صدر میگوئل ڈياز-کینیَل نے ہوانا میں ایک بین الاقوامی یکجہتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے ملک کے خلاف فوجی مداخلت کے لیے بہانہ تلاش کر رہا ہے۔
فِدیل کاسٹرو کی پیدائش کی یک صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر منعقدہ ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈياز-کینیَل نے امریکی پالیسیاں تنقید کا نشانہ بنائیں اور کیوبا کو خطرہ قرار دینے والی واشنگٹن کے پلان کو مسترد کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ ہمیں اپنے لیے غیر معمولی اور غیر روایتی خطرہ قرار نہیں دیتا ،ہم پُراعتماد ہیں کہ یہ امریکی عوام کا جذبہ نہیں بلکہ ایک بہانہ ہے جسے امریکی حکومت نے ہم پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا ہے ،ایک سوال اٹھتا ہے: خطرہ کیا ہے؟ اس خطرے میں کیا غیر معمولی بات ہے؟ میں یہ سوال روزانہ اپنے آپ سے پوچھتا ہوں۔ کوئی بہانہ نہیں، کوئی وجہ نہیں جو کیوبا کے خلاف فوجی حملے کو جائز ثابت کرے ۔
،” انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں نسل کشی جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں، جیسے فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی، جیسے لبنان کے عوام کے خلاف نسل کشی، اسی لیے جارحیت اور جنگ کی زبان بین الاقوامی تنازعات حل کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے
3 جنوری کو وینزویلا کے خلاف ایک امریکی فوجی مداخلت کے طور پر جو انہوں نے بیان کیا، اس کا حوالہ دیتے ہوئے ڈياز-کینیَل نے واشنگٹن پر عالمی غلبہ چاہنے اور وینزویلا کے صدر نیکولس مادُورو کو 'نارکو-ریاست' کے بیانیے کے ذریعے نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔
صدر نے کہا کہ امریکہ نے بولیواری انقلاب کے جائز صدر نیکولس مادورو کو سیاسی حربوں اور میڈیا کے ذریعے بدنام کرنے کی کوشش کی پھر اس نے وینزویلا پر بحری محاصرہ عائد کیا اور پچھلے 20 سالوں میں کیریبین میں سب سے بڑی امریکی فوجی موجودگی مسلط کر دی۔
ڈياز-کینیَل نے کہا کہ ایرانی عوام نے امریکی جارحیت کا مقابلہ کیا ہے اور زور دیا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں اور نہ ہی اس نے انہیں استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے۔
انہوں نے کیوبن عوام کو درپیش مشکلات کے بارے میں امریکہ کے اظہارِ خیال کو مضحکہ خیزاور بے معنی قرار دے کر مسترد کر دیا اور کہا کہ اگر وہ واقعی اتنے فکر مند ہیں تو محاصرے کو ختم کریں۔ کیونکہ کیوبا کے عوام کے بنیادی مسائل اسی طویل المدتی محاصرے کے جاری رہنے سے جنم لیتے ہیں۔
امریکہ کی فوجی مداخلت کی صورت میں سنگین نتائج کی وارننگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ امریکی حکومت کے ساتھ اختلافات بات چیت کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں مگر تعاون کے ایسے شعبے تلاش کرنے کے لیے نیت اور سنجیدگی ہونی چاہیے جو مفاہمت لائیں اور ہمیں تنازع سے دور رکھیں۔












