مشرق وسطی
2 منٹ پڑھنے
القدس میں مسیحی برادری بھی غیر محفوظ،راہبہ زخمی
القدس کے فرانسیسی بائبل اور آثارِ قدیمہ اسکول میں خدمات انجام دینے والی راہبہ کو ایک 36 سالہ حملہ آور نے مارا پیٹا، جس سے  ان کے سر پر  چوٹیں آئی ہیں۔
القدس میں مسیحی برادری بھی غیر محفوظ،راہبہ زخمی
مسیحی راہبہ / AP

مقبوضہ مشرقی القدس میں مسیحی برادری کے خلاف بڑھتے ہوئے اسرائیل کے منظم حملوں میں ایک اور اضافہ ہو گیا ہے۔

القدس کے فرانسیسی بائبل اور آثارِ قدیمہ اسکول میں خدمات انجام دینے والی راہبہ کو ایک 36 سالہ حملہ آور نے مارا پیٹا، جس سے  ان کے سر پر   چوٹیں آئی ہیں۔

القدس لاطینی پیٹریارکیٹ اور اسکول انتظامیہ نے اس حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسرائیلی حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

واقعے کے بعد اطلاع دی گئی ہے  کہ ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

یہ حملہ کوئی انوکھا  واقعہ نہیں ہے۔

یاد رہے کہ 19 اپریل کو لبنان کے جنوبی علاقے دیر سریان قصبے میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ کے مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑنے کی ویڈیوز نے مسیحی دنیا میں شدید غم و غصہ پیدا کیا تھا۔

علاقے میں رہنے والی مسیحی برادری کچھ عرصے سے انتہا پسند دائیں بازو کے گروہوں کے جسمانی حملوں، مقدس مقامات کو نذرِ آتش کرنے اور منظم ہراسانی کا سامنا کر رہی ہے۔

اگرچہ اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کو "قابلِ نفرت" قرار دے کر مذمت کی ہے، لیکن غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی  القدس  میں مسیحی اقلیت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ ان کی جان و مال کی حفاظت مسلسل بڑھتے ہوئے خطرے میں ہے۔