ایک سعودی عہدیدار کے مطابق بیرون ملک سے 1.5 ملین عازمین حج سعودی عرب پہنچ چکے ہیں، جو کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باوجود پچھلے سال کی عالمی تعداد سے زیادہ ہے۔
فروری کے آخر میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد تہران نے سعودی عرب اور خلیج بھر میں اہداف پر حملوں کی متعدد لہروں کے احکامات جاری کیے، جس کے نتیجے میں فضائی آمد و رفت میں وسیع خلل پیدا ہوا اور سفری اخراجات میں اضافہ ہو گیا۔
متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین کی بڑی خلیجی ایئر لائنز نے ہفتوں تک فضائی حدود بند رہنے اور پروازوں کی منسوخی کے بعد اپنی آپریشنل صلاحیت کا بڑا حصہ جلد از جلد بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔
پیچیدگیوں کے باوجود زائرین امسال کے حج میں شرکت کے لیے سعودی عرب کی طرف آتے رہے ہیں۔
حج پاسپورٹ فورسز کے کمانڈر صالح المربّع نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بیرونِ ملک سے آنے والے زائرین کی کُل تعداد 1,518,153 تک پہنچ گئی ہے۔''
ان اعداد و شمار کے اگلے دو دنوں میں مزید بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ بیرونِ ملک سے آنے والے زائرین پیر کو حج کے آغاز کی مذہبی رسومات سے قبل آتے رہیں گے۔
گزشتہ سال 1,673,320 مسلمانوں نے حج ادا کیا تھا جن میں سے 1,506,576 بیرون ملک سے تھے۔
حج اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے اور یہ ہرصاحبِ حیثیت مسلمان پرکم ازکم ایک بار فرض ہے۔



















