ثقافت
4 منٹ پڑھنے
ارندھتی رائے نے غزہ میں نسل کشی کے بیانات پر احتجاج میں برلن فلم فیسٹیول سے کنارہ کشی کر لی
عالمی شہرت یافتہ ادیبہ نے کہا ہے کہ بڑے افسوس کے ساتھ  وینڈرز اور دیگر جیوری اراکین کے ناقابلِ قبول بیانات نے انہیں دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔
ارندھتی رائے نے غزہ میں نسل کشی کے بیانات پر احتجاج میں برلن فلم فیسٹیول سے کنارہ کشی کر لی
رائے کی فیسٹیول سے دستبرداری دنیا بھر میں پھیلنے والی ان تلخ دراڑوں کی تازہ ترین نشانی ہے جو غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کے باعث پیدا ہوئی ہیں۔ / Reuters Archive

ایوارڈ یافتہ بھارتی مصنفہ ارندھتی رائے نے برلن فلم فیسٹیول (برلِنالے) سے،جیوری کے صدر وِم وینڈرز نے غزہ کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا تھا کہ سنیما کو "سیاست سے دور رہنا" چاہیے، کے جواز میں دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔

رائے نے جمعہ کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ وینڈرز اور دیگر جیوری اراکین کے ردِّعمل جو جمعرات کو پریس کانفرنس میں فلسطینی علاقے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سامنے آئے، کو سن کر وہ "حیران اور دلبرداشتہ" ہوئی ہیں ۔

رائے، جن کے ناول "دی گاڈ آف اسمال تھنگز" نے 1997 کا بُکر انعام جیتا تھا، کو اُس تہوار کا مہمان قرار دیا گیا تھا تاکہ وہ 1989 کی فلم "ان وچ اینی گیوز اِٹ ڈوز ونس" کا بحال شدہ ورژن پیش کریں، جس میں انہوں نے اداکاری کی  اور اسکرین پلے لکھا تھا۔

تاہم، انہوں نے کہا کہ بڑے افسوس کے ساتھ  وینڈرز اور دیگر جیوری اراکین کے ناقابلِ قبول بیانات نے انہیں دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔ "

جب جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں جرمنی کی اسرائیل کی حمایت کے بارے میں پوچھا گیا تو وینڈرز نے کہا: "ہم واقعی سیاست کے میدان میں داخل نہیں ہو سکتے،" اور فلم سازوں کو "سیاست کا توازن برقرار رکھنے والا" قرار دیا۔

جیوری کی رکن ایوا پوشچِنسکا نے کہا کہ اس معاملے پر جیوری سے براہِ راست موقف اپنانا، توقع کرنا "کچھ حد تک ناانصافی" ہوگی۔

رائے نے اپنے بیان میں کہا کہ "ان کے یہ کہنا کہ فن کو سیاسی نہیں ہونا چاہیے سن کر منہ کھلا کا کھلا رہ جاتا ہے۔"

انہوں نے غزہ کی صورتحال کو " اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی" قرار دیا۔

رائے نے کہا: "اگر ہمارے وقت کے بڑے فلم ساز اور فنکار کھڑے ہو کر یہ نہیں کہہ سکتے تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تاریخ اُن کا محاسبہ کرے گی۔"

"یہ انسانیت کے خلاف ایک جرم کے بارے میں بات چیت کو بند کرنے کا طریقہ ہے، جبکہ یہ واقعہ ہمارے سامنے حقیقی وقت میں ہو رہا ہے — جب فنکاروں، لکھاریوں اور فلم سازوں کو اسے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔"

رائے بھارت کی  معروف  مصنفہ ہیں اور وہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی دائیں بازو کی حکومت کی سخت ناقد بھی ہیں، نیز فلسطینیوں کےدعوے کی پختہ حامی ہیں۔

متوفی مصری ہدایت کاروں کی دو فلموں کے بحال شدہ ورژنز، اتیات الحق البنودی کی "سیڈ سانگ آف توحہ" اور حسین شریف کی "دی ڈس لوکیشن آف ایمبر"، کو بھی غزہ کے حوالے سے تہوار کے موقف کی وجہ سے فیسٹیول سے واپس لیا گیا ہے۔

ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا: "برلِنالے ان فیصلوں کا احترام کرتا ہے۔"

انہوں نے کہا: "ہمیں افسوس ہے کہ ہم اُن کا خیرمقدم نہیں کر سکیں گے کیونکہ ان کی موجودگی فیسٹیول کے مباحثے کو مالا مال کرتی۔"

سیاست سے گریز

برلِنالے روایتی طور پر موضوعاتی، پیش رفت پسندانہ پروگرامنگ کے لیے معروف ہے، مگر اس سال کے ایڈیشن میں کئی ستارے بڑے سیاسی مسائل پر موقف اختیار کرنے سے گریز کرتے دکھائی دیے ہیں۔

امریکی اداکار نیل پیٹرک ہیرس، جو فلم "سنی ڈانسر" میں نظر آ رہے ہیں، سے جمعہ کو پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے فن کو سیاسی سمجھتے ہیں اور کیا یہ "فاشزم کے عروج سے لڑنے" میں مدد کر سکتا ہے۔

انہوں نے جواب دیا کہ وہ "غیر سیاسی چیزیں کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں" اور ایسی چیزیں جو ہمارے "عجیب الگورتھمک اور منقسم دنیا" میں لوگوں کو جوڑنے میں مدد کر سکیں۔

اس سال کے اعزازی گولڈن بیئر کے وصول کنندہ، ملیشیائی اداکارہ مِشل ییوہ، نے بھی جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں امریکی سیاست پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ "یہ فرض نہیں کر سکتیں کہ وہ صورتحال کو سمجھتی ہیں۔"

یہ فیسٹیول کا پہلا ایڈیشن نہیں جس نے غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کے بارے میں تنازعے کا سامنا کیا ہو۔

2024 میں، فیسٹیول کا دستاویزی فلم ایوارڈ "نو ادر لینڈ" کو دیا گیا تھا، جو اسرائیل کے قابض مغربی کنارے میں فلسطینی آبادیوں کی بے دخلی کا احاطہ کرتی  ہے۔

جرمن حکومتی عہدیداروں نے اس سال کی ایوارڈ تقریب میں اس فلم اور دیگر ہدایت کاروں کے غزہ کے بارے میں کیے گئے "یکطرفہ" تبصروں پر تنقید کی تھی۔

فلسطینیوں کی جانب سے دیے گئے محتاط اندازوں کے مطابق، غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی نے کم از کم 72,000 افراد کو ہلاک اور 171,400 سے زائد کو زخمی کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار کم ترین اندازے ہو سکتے ہیں، اور مجموعی ہلاکتوں کی تعداد ممکنہ طور پر تقریباً 200,000 تک پہنچ سکتی ہے،

 ے۔

دریافت کیجیے
مشرق وسطی میں جنگی حالات کے باوجود امسال عازمین حج کی تعداد ڈیڑہ ملین سے تجاوز کر گئی
بلغاریہ 2026 یورو ویژن مقابلہ موسیقی جیت گیا
فلسطینی فوٹوگرافر ساحر الغورہ نے 2026 پولیٹزر انعام جیت لیا
لاس اینجلس میں ترکیہ کی فٹ بال عالمی کپ میں واپسی کا بھر پور طریقے سے خیر مقدم
یورپی یونین کی سربراہ کی اسرائیل کی طرف سے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی پر شدید مذمت
آسکر ایوارڈز: مائیکل بی جارڈن بہترین اداکار اور جیسی بکلی  بہترین اداکارہ قرار
105 سال پرانا ترکیہ کا قومی ترانہ
نیٹ فلکس کی خریداری کا معاملہ،پیراماونٹ  کی پیشکش
امینہ ایردوان نے7 ویں TRT ورلڈ سٹیزن ایوارڈز میں عالمی تبدیلیوں کی نمایاں شخصیات کو اعزازات سے نوازا
2025 کے آخر تک ترکیہ کی آبادی 86 ملین سے تجاوز کر گئی
شام: فائر بندی متحد اداروں اور بحالی کی طرف ایک اہم قدم ہے
ترک خاتونِ اول: انصاف کے فقدان سے خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں
یورو ویژن 2026 میں اسرائیل کی شرکت،آئس لینڈ  حصہ نہیں لےگا
امریکہ  نے مسروقہ نوادرات ترکیہ کے حوالے کر دیئے
پوپ لیو کا استنبول میں سلطان احمد مسجد کا دورہ
ترکیہ میں خواتین کے خلاف تشدد پر عدم برداشت کی پالیسی
ترک صدر کی خواتین کے خلاف اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف کمزور رد عمل پر کڑی تنقید
گرینڈ مصر عجائب گھر ہفتے کے روز کُھل رہا ہے
ترک بیگل(SİMİT) امریکیوں کی توجہ کا مرکز بن گیا
سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ انتقال کر گئے