مشرق وسطی
4 منٹ پڑھنے
اسرائیلی پارلیمنٹ پھانسی کے قانون پر رائے شماری کی تیاریوں میں
اسرائیلی پارلیمنٹ، مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے مسوّدہ قانون پر، رائے شماری کی تیاریاں کر رہی ہے
اسرائیلی پارلیمنٹ پھانسی کے قانون پر رائے شماری کی تیاریوں میں
فائل: اسرائیلی افواج کے ہاتھوں غزہ میں پکڑے گئے فلسطینی قیدی جنوبی اسرائیل میں سدے تیمان فوجی اڈے پر ایک حراستی مرکز میں۔ / AP
6 گھنٹے قبل

اسرائیلی پارلیمنٹ، مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کو بنیادی سزا بنانے پر مبنی مسوّدہ قانون پر رائے شماری کی تیاریاں کر رہی ہے۔

پارلیمنٹ نے، موسمِ بہار کی تعطیلات سے چند روز قبل،  آج بروز سوموار  سے مسّودے  پر بحث شروع کر دی ہے۔ اس بل کی منظوری اسرائیلوں کے خلاف ارتکابِ جُرم کرنے والے فلسطینیوں کے لئے شدید ترین سزاوں  کا مطالبہ کرنے والے انتہائی دائیں بازو کی سالوں پر محیط کوششوں کا نقطہ عروج اور قانونی تجویز پیش کرنے والی دینی پارٹی کے لیڈر اور اسرئیل کے انتہائی متعصب وزیرِ دفاع ایتمار بن گویر  کی فتح تصور کی جائے گی۔  

مسّودہ قانون کے مخالفین اسے نسل پرستانہ اور سخت گیرقانون  قرار دیتے ہیں۔ قانون کی رُوسے سزائے  موت  30 دن کے اندر نافذ ہو جائے گی۔ تاہم توقع ہے کہ حقوقِ انسانی کی تنظیمیں اس مسّودہ قانون کے خلاف اسرائیل کی سپریم کورٹ میں عرضی دائر کروائیں گی۔

مسّودہ بِل پر رائے شماری  کی تیاریوں کے دوران  بن گویر نے  اپنے کوٹ کی کالر پر پھندے کا بروش لگا کر اس اقدام کو مقبول بنایا  اور قانون کی منظوری کی صورت میں سزائے موت کے طریقے کا کھُلا اشارہ دیا۔  

ایک بیان میں بن گویر  نے بِل کو حالیہ سالوں کا "اہم ترین قانون" قرار دیا اور  کہا ہے کہ "خدا کی مدد سے، ہم اس قانون کو پوری طرح نافذ کریں گے اور اپنے دشمنوں کو ماریں گے"۔

بن گویر کی جماعت وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی زیرِ قیادت حکومتی اتحاد کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے۔

بل میں کیا  کیا شامل ہے؟

مسّودہ بِل پر تنقید کرنے والوں میں  اسرائیلی اور فلسطینی افراد، حقوقِ انسانی کی  بین الاقوامی تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ شامل ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے  کہ مذکورہ  قانون کے اسرائیلی عدالتی نظاموں کے درمیان ایک درجہ بندی قائم کرنے کی  وجہ سے موت کی سزا بنیادی طور پر فلسطینی قیدیوں تک محدود رہے گی۔

بل فوجی عدالتوں کو، کسی اسرائیلی کے قتل کے جُرم میں ملّوث افراد کو 'دہشت گردانہ' اقدام کے دائرہ کار میں، سزائے موت دینے کا پابند کرتا ہے۔  ایسی عدالتیں غیر اسرائیلی اور صرف مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے مقدمات سنتی ہیں ہیں۔ بل میں کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتیں "خصوصی حالات"میں سزا ئے موت کو عمر قید میں بدل سکتی ہیں۔

اسرائیلی عدالتیں، جو اسرائیلی شہریوں بشمول اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کے مقدمات سنتی ہیں، ایسے قتل کے معاملات میں جہاں مقصد اسرائیلی شہریوں یا رہائشیوں کو نقصان پہنچانا ہو یا "اسرائیلی ریاست کے وجود کو رد کرنے کا ارادہ" شامل ہو، عمر قید یا موت کی سزا کے درمیان انتخاب کر سکتی ہیں۔

اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے سینٹر فار ڈیموکریٹک ویلیوز اینڈ انسٹی ٹیوشنز کے سینئر فیلو امیچائی کوہن نے کہا  ہےکہ یہ تفریق امتیازی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "یہ قانون فلسطینیوں کے مقدمات کی سماعت کرنے والی  فوجی عدالتوں والے علاقوں میں لاگو ہو گا ۔ یہ اسرائیلی عدالتوں پر بھی لاگو ہوگا لیکن صرف اُن دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے جو اسرائیل کے وجود کو کمزور کرنے کی خواہش  رکھتی ہوں۔  اس کا مطلب ہے کہ یہودی اس قانون کے تحت کاروائی کا سامنانہیں کریں گے"۔

بل پر تنقید

کوہن نے مزید کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی رُو سے اسرائیلی پارلیمنٹ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں قانون سازی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وہ اسرائیل کی خودمختار سرزمین نہیں ہے۔ نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی جماعتوں میں سے کئی جماعتیں مقبوضہ علاقے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی خواہاں ہیں۔

پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے وکیل نے سابقہ گفتگو کے دوران کئی خدشات اٹھائے اور کہا تھا  کہ یہ بل رحم یا معافی کی اجازت نہیں دیتا، جو بین الاقوامی کنونشنز کے منافی ہے۔ بل کہتا ہے کہ سزا سنائے جانے کے 90 دن کے اندر پھانسی دے دی جانی چاہیے۔

اگرچہ تکنیکی طور پر اسرائیل کے قوانین میں نسل کشی، جنگ کے دوران جاسوسی اور بعض دہشت گردانہ جرائم کے لیے موت کی سزا کا ذکر موجود ہے، مگر ملک نے 1962 میں نازی جنگی مجرم ایڈولف آئخمان کو سزائے موت دینے کے بعد کسی کو بھی موت کی سزا نہیں دی۔

کچھ حزبِ اختلاف کے قانون ساز خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ بل مستقبل میں یرغمالی مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسرائیل نے اکتوبر 2023 کے حملے کے دوران لئے گئے تقریباً 250 یرغمالیوں کے بدلے ہزاروں فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ کیا تھا۔

دریافت کیجیے
پاکستان ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے ساتھ مشرق وسطی جنگ پر مذاکرات کی میزبانی کرے گا
وٹکوف: ایران کے ساتھ مذاکرات 'اس ہفتے' ہوں گے، ٹرمپ: ہم معاہدے کے قریب ہیں
کٹ کیٹ اڑ گئی: یورپ میں 12 ٹن چاکلیٹ چوری
اسرائیلی فوج غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے فلسطینیوں پر حملوں کو نظر ِ انداز کر رہی ہے
یوکرین پر روسی حملوں میں ایک میٹرنٹی ہسپتال اور شہری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، 3 افراد ہلاک
ایرانی میزائلوں کا سعودی عرب میں امریکی بیس پر حملہ، 12 امریکی فوجی زخمی، کئی طیاروں کو نقصان
ترکیہ: ایران جنگ پر ثالث ملک پاکستان کے ساتھ ممکنہ اجلاس عنقریب ہو سکتا ہے
ایردوان: دوسری عالمی جنگ کے بعد کے عالمی نظام کو اپنی مشروطیت کے بحران کا سامنا ہے
اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی بری عسکری کارروائیوں کو وسعت دے رہا ہے
ترکیہ، فٹبال میں فیفا ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ سلسلے میں فائنل تک پہنچ گیا
ایران امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہا: عراقچی
نتن یاہو  نے ایران پر 48 گھنٹے کے تیز حملوں کا حکم دے دیا ہے
ترکیہ اور برطانیہ نے یورو فائٹر سپورٹ معاہدہ طے کر لیا
ختم کرنے کی کوئی حکمت عملی نہیں: جرمنی کی اسرائیل-امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ پر تنقید
اس وقت مذاکرات کی پیشکش ہتھیار پھینکنے کے مترادف ہو گی: حزب اللہ