ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے ایک جہاز کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
واشنگٹن نے اس دعوے کی فوری طور پر تردید کر دی ہے لیکن تہران نے اس اہم آبی گزرگاہ میں کلیدی بحری علاقوں پر اپنے وسیع کنٹرول کا اعلان کیا اور ایک نیا نقشہ بھی جاری کر دیا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی 'فارس نیوز' نے پیر کے روز مقامی ذرائع کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ ملک کے جنوبی حصے میں واقع جاسک لینڈ کے قریب گشت کرتے ایک امریکی جنگی بحری جہاز کو رُکنے کے حکم کی تعمیل نہ کرنے پر دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق جہاز نے ٹریفک اور جہازرانی کی سلامتی کی خلاف ورزی کی اور حملے کے بعد اپنا سفرجاری نہیں رکھ سکا اور علاقے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ تاہم کسی مالی یا جانی نقصان سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ تہران کی جانب سے جاری کردہ رُوٹ پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی جہاز کو روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔"
امریکہ کی تردید
ایکسیئس کے رپورٹر باراک راویڈکے مطابق ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نےایران کے امریکی بحریہ کے جہاز کو نشانہ بنانے کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد تہران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں کیں اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ امریکہ 13 اپریل سے اس اہم آبی راستے میں ایرانی بحری سرگرمیوں کے خلاف ایک بحری ناکہ بندی لگائے ہوئے ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں 8 اپریل کو طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی اور اس کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے براہ راست مذاکرات کسی مستقل نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا تھا۔
آبنائے ہرمز کے لیے ایران کا نیا نقشہ
ان پیش رفتوں کے ساتھ ہی، ایران کے پاسداران انقلاب دستوں نے ایک نیا نقشہ جاری کیا جس میں ان علاقوں کو دکھایا گیا ہے جنہیں وہ آبنائے ہرمز میں اپنے زیرِ کنٹرول قرار دیتا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق یہ علاقہ ایران کے جزیرہ قشم سے لے کر متحدہ عرب امارات کی امارت تک، اور ایران کے کوہِ مبارک سے متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ کے جنوب تک پھیلا ہوا ہے۔ تاہم اس نئے اعلان کردہ زیرِ کنٹرول علاقے کے پہلے کے زیرِ کنٹرول علاقے کے مقابلے میں کتنا وسیع ہونے سے متعلق تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔













