سعودی عرب کے وزیر برائے صنعت و معدنی وسائل بندر الخریف نے کہا کہ ترکیہ کے ساتھ تعلقات "اسٹریٹجک" ہیں، انہوں نے صنعت اور کان کنی میں بڑھتے ہوئے تعاون کو اجاگر کیا اور کہا کہ موجودہ خلل کے باوجود خطہ مضبوط انداز میں ابھرے گا۔
استنبول میں انادولو سے ایک انٹرویو میں بندر الخریف نے کہا کہ جاری کشیدگیاں اس بات کو دوبارہ تشکیل دے رہی ہیں کہ ممالک لاجسٹکس، سپلائی چینز اور صنعتی ترقی کو کس طرح اپناتے ہیں۔
’’آج جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ پورے خطے کے لیے بہت اہم مواقع پیدا کرے گا،‘‘ انہوں نے کورونا وبا کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سعودی عرب نےمقامی پیداوار تیز کی اور خود کفالت مضبوط بنائی۔
ترکیہ کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون
الخریف نے کہا کہ ترکیہ کی متنوع صنعتی بنیاد سعودی عرب کی صنعتی حکمتِ عملی کے تحت ہدف بنائے گئے شعبوں کے ساتھ اچھی طرح ہم آہنگ ہے، جو تعاون کے لیے وسیع مواقع پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ’’آج دنیا میں معدنیات کی مانگ بڑھ رہی ہے، اور رسد کو یقینی بنانے کے لیے ممالک کے درمیان تعاون ضروری ہے، چاہے وہ وسائل کے ذریعے ہوں یا پیداواری یا درمیانی صنعتوں کے ذریعے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ خلل ممالک کو لاجسٹکس اور نقل و حمل کے حل پر نظرِثانی کرنے پر مجبور کر رہے ہیں، اور علاقے کی تجارتی رکاوٹوں کے ممکنہ حل کے طور پر اردن اور شام کے راستے سعودی عرب کو ترکیہ سے ملانے والی مجوزہ ریلوے لائن کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ’’نقل و حمل سعودی برآمدات کی دوڑ کی کلید ہے،‘‘ ، اور بتایا کہ تجارت کو آسان بنانے اور خام مال تک رسائی بہتر بنانے والے منصوبے اولین ترجیح رہیں گے۔
صنعتی اقدامات کے نتائج برآمد
الخریف نے کہا کہ سعودی عرب خاص طور پر غیر تیل برآمدات کے شعبے سمیت اب اپنے صنعتی شعبے میں برسوں کی سرمایہ کاری کے فوائد حاصل کرنا شروع کر رہا ہے ۔
’’اعداد و شمار دکھاتے ہیں کہ جو کچھ بنایا گیا تھا وہ اب نتائج دے رہا ہے۔‘‘
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کی غیر تیل برآمدات 2025 میں 166.4 بلین ڈالرتک پہنچ گئیں، جو سالانہ 15 فیصد اضاف ے کے برابر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت زیرِ تعمیر بڑی تعداد میں کارخانے مسلسل نمو کی حمایت کریں گے، کیونکہ مملکت خود کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک مسابقتی منزل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
کان کنی کا شعبہ عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے
الخریف نے کان کنی کے شعبے کو سعودی معیشت کے اُن شعبوں میں سے قرار دیا جو سب سے زیادہ تبدیل ہوئے ہیں، محدود سرمایہ کاری سے لے کر عالمی سطح پر مسابقتی ماڈل تک ارتقا پذیر ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ’’صرف وسائل کافی نہیں ہیں۔ اہم وہ ماحول ہے جو انہیں صنعتی مصنوعات میں تبدیل کرنے کے قابل بناتا ہے۔‘‘
سعودی عرب اپنے معدنی وسائل کو 2.4 ٹریلین ڈالرسے زائد کا اندازہ لگاتا ہے، اور اس شعبے کا جی ڈی پی میں حصہ 2035 تک 75 بلین ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔
ملازمتوں اور مستقبل کی مہارتوں پر توجہ
الخریف نے کہا کہ اقتصادی اصلاحات کا حتمی مقصد معیارِ زندگی بہتر بنانا اور شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے صنعت میں جدید ٹیکنالوجیز کو شامل کرنے اور اس شعبے کو نوجوان نسل کے لیے مزید پرکشش بنانے کی کوششوں کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ’’ہم صنعت کو مستقبل کی مہارتوں کے ساتھ ہم آہنگ کر رہے ہیں ، انہوں نے تعلیم، تربیت اور افرادی قوت کی ترقی پر مرکوز قومی پروگراموں کا حوالہ بھی دیا۔















