اس سال چین کے مرکزی حصے سے ٹکرانے اور شدید بارشوں اور وسیع پیمانے کے سیلاب کا سبب بننے والے طاقتور ترین طوفان 'باوی' نے شمال مشرقی صوبے لیاؤننگ میں 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔
چین محکمۂ موسمیات کے مطابق منگل تک بعض علاقوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ طوفان باوی اپنے ساتھ بھاری مقدار میں استوائی نمی کو شمال کی جانب لے آیا ہے جس کے باعث شمالی چین میں مسلسل مرطوب ہوائیں چل رہی ہیں۔
چین سوشل میڈیا پر شیئر کئے گئے ویڈیو مناظر میں لیاؤننگ کے دارالحکومت شینیانگ میں ایک لائٹ ہاؤس ایک ہائی وولٹیج والی بجلی کی لائن کوتوڑ کر تیز سیلابی ریلے میں بہتا دِکھائی دے رہا ہے۔ لائٹ ہاوس بہاو کے ساتھ شہر کی مرکزی شاہراہوں سے ہوتا ہوا ایک پل کے نیچے سے گزرتا نظر آ رہا ہے۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران باوی طوفان نے چین کے وسیع علاقے کو متاثر کیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں شدید بارشوں اور بڑے پیمانے پر سیلاب کے باعث ایک ڈیم ٹوٹ گیا اور شہری بنیادی ڈھانچے کو مختلف نوعیت کے نقصان پہنچے ہیں۔
طوفان کے شمال کی جانب بڑھنے کے ساتھ ہی حکام نے بڑے پیمانے پر انخلاء اور ہنگامی امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور ملک بھر میں 9 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ لیاؤننگ ، اس آفت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔
شمال مشرقی چین کے متعدد شہروں، خصوصاً شینیانگ اور جیلن میں ٹرانسپورٹ کی خدمات شدید متاثر ہونے کی وجہ سے حکام نے تمام اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں معطل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہیں ۔
باوی طوفان تقریباً فرانس کے رقبے کے برابر علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ طوفان 13 روز قبل بحرالکاہل سے اُٹھا تھا۔ اگرچہ یہ ہفتے کی رات چین کے مشرقی ساحل سے ٹکرایا لیکن پیر کے روز بھی اس کی شدّت بڑی حد تک برقرار رہی ہے۔ اس طرح باوی رواں سال میں ایشیا۔بحرالکاہل خطے کا سب سے طویل عرصہ برقرار رہنے والا استوائی طوفان بن گیا ہے۔
طوفان باوی نے چین کے ہمسایہ ممالک اور علاقوں کو بھی متاثر کیا، جن میں جنوبی کوریا، جاپان، تائیوان اور فلپائن شامل ہیں۔
چینی ماہرینِ موسمیات کے مطابق باوی طوفان کی شدّت کے دیر تک برقرار رہنے کی وجہ اس کی غیر معمولی طور پر محفوظ 'گرم مرکزہ' ہے۔ اسی مرکزی ساخت کی بدولت طوفان جزیرہ نما کوریا کی جانب بڑھتے ہوئے بھی اپنی زیادہ تر نمی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
استوائی طوفان قرار دیئے گئے 'باوی' کی رفتار میں مزید کمی اور طوفانی نمی کے اخراج کے نتیجے میں شدید بارشوں کی توقع کی جا رہی ہے۔




















