قزاقستان نےیوکرینی حملے کے بعد قدرتی گیس کی پیداوار کم کر دی ہے۔
قزاقستان کے وزیرِ توانائی ارلان آقنزینوف نے جمعہ کو صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے کہ یوکرین کی جانب سے اس ہفتے روس کے 'اورین برگ گیس پروسیسنگ پلانٹ' پر کیے گئے ڈرون حملے کے بعد قزاقستان نے کاراچاگاناک تیل اور قدرتی گیس کنڈینسیٹ فیلڈ سے گیس کی پیداوار کم کر دی ہے۔
کاراچاگاناک فیلڈ، جس کے حصص داروں میں شیورون اور شیل بھی شامل ہیں، سے حاصل ہونے والی خام گیس عموماً سرحد پار روس کے اورین برگ پروسیسنگ پلانٹ منتقل کی جاتی ہے۔
بدھ کے روز کیف کے حکام نے اعلان کیا تھاکہ انہوں نے یوکرین سے تقریباً 1,700 کلومیٹر مشرق میں واقع روسی پلانٹ کو نشانہ بنایاہے۔
کاراچاگاناک میں تیل اور گیس کی پیداوار ایک دوسرے سے منسلک ہےلہٰذا جب گیس کی پیداوار کم ہوتی ہے تو تیل کی اضافی پیداوار بھی ممکن نہیں رہتی۔
اورین برگ کا یہ پلانٹ گزشتہ سال اکتوبر میں بھی حملے کا نشانہ بنا تھا۔
آقنزینوف نے کہا ہے کہ "فطری طور پر ہم نے نظام میں داخل ہونے والی گیس کی مقدار کم کر دی ہے، تاہم قزاقستان بھر میں گیس کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔"
انہوں نے مزید کہا ہے کہ کاراچاگاناک میں تیل اور قدرتی گیس کنڈینسیٹ کی پیداوار تقریباً ایک چوتھائی کمی کے ساتھ یومیہ 34,000 ٹن سے گھٹ کر 25,000 میٹرک ٹن، یعنی تقریباً 196,500 بیرل رہ گئی ہے۔
2024 میں یومیہ تقریباً 263,000 بیرل تیل پیدا کرنے والا یہ فیلڈ اپنی پیداوار روس کے بحیرۂ اسود کے ساحلی شہر نووروسیسک میں واقع ٹرمینل تک کیسپین پائپ لائن کنسورشیم کے ذریعے برآمد کرتا تھا اور مصنوعات روس کی دروجبا پائپ لائن کے ذریعے جرمنی بھی بھیجی جاتی تھیں۔
کاراچاگاناک فیلڈ چلانے والی بین الاقوامی مشترکہ کمپنی کاراچاگاناک پیٹرولیم آپریٹنگ کمپنی (KPO) اور قزاقستانی گیس کی مارکیٹنگ و پروسیسنگ کے لیے قائم قازق-روسی مشترکہ ادارے 'کازروس گیس' کے درمیان 2038 تک جاری رہنے والے طویل مدتی خریداری معاہدے کے تحت اورین برگ کو گیس فراہم کی جاتی ہے۔
شیورون اور شیل کے علاوہ کاراچاگاناک کے دیگر حصص داروں میں اٹلی کی تیل و گیس کمپنی 'اینی' ، روس کی بڑی خام تیل پیدا کرنے والی کمپنی لوک آئل اور قزاقستان کی قومی تیل و گیس کمپنی قازمونائے گیس بھی شامل ہیں۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں کا مقصد روس کی جنگی مالی معاونت کو کمزور کرنا اور جنگ کے اثرات کو روسی عوام کے لیے زیادہ پُر اثر بنانا ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہےکہ شہری بنیادی ڈھانچے پر اس نوعیت کے حملوں کا مقصد عوام میں پھُوٹ اور بے چینی پیدا کرنا ہے۔
آقنزینوف نے صحافیوں کو بتایا ہےکہ روس نے قزاقستان سے ایندھن کی فراہمی کے لیے کوئی باضابطہ درخواست نہیں کی۔
بدھ کے روز توانائی کے شعبے سے چار ذرائع نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ روس اپنی ریفائنریوں میں خرابیوں اور غیر منصوبہ بند مرمت کے باعث پیدا ہونے والی اندرونی ایندھن کی قلت کو کم کرنے کے لیے تقریباً 50,000 میٹرک ٹن AI-92 گریڈ پٹرول درآمد کرنے کے سلسلے میں قازقستان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔












