امریکہ نے اپنی فوجی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے ذریعے ایک نگرانی کا نظام شروع کیا ہے جس کا مقصد لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی پر 'ہمہ وقت' میں نگاہ رکھی جا سکے۔
نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے ایک امریکی عہدیدار نے صحافیوں کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 'ہمارا مشترکہ مقصد تشدد کے اس چکر کا مستقل خاتمہ ہے۔ ہم اسرائیل اور لبنان کو، بحیثیت دو خودمختار ریاستوں کے، مذاکرات کرنے کے قابل بنا رہے ہیں تاکہ امن اور سلامتی کا کوئی راستہ تلاش کیا جا سکے۔ مذاکرات دونوں ممالک کے مابین ایک جامع امن و سلامتی معاہدے کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔'
عہدیدار نےکہا کہ CENTCOM کا یہ نظام جمعہ کو امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کی طرف سے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون سے 'وقفۂ جنگ کو مضبوط بنانے اور مستقبل کے مذاکرات' کے بارے میں ہونے والے ٹیلی فونک رابطوں کے بعد قائم کیا گیا ہے۔
عہدیدار نے کہا ہے کہ 'مزید تفصیلات جلد دستیاب ہوں گی،' کیونکہ اسرائیلی اور لبنانی عہدیدار براہِ راست امریکی ثالثی میں مذاکرات جاری رکھنے کے لیے 23 سے 25 جون تک واشنگٹن میں موجود رہیں گے۔
تنازعات سے بچاؤ کا نیٹ ورک
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ثالث ممالک قطر اور پاکستان نے اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے برگین اسٹاک ریزورٹ میں امریکی-ایران مذاکرات کے اختتام کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ فریقین نے یہ طے کیا ہے کہ ایک 'تنازعے سے بچاؤ سیل' قائم کیا جائے گا جس میں امریکہ، ایران اور لبنان شامل ہوں گے اور جسے اسلام آباد مفاہمت نامہ کے تحت لبنان میں فوجی حملوں کی بندش کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے دونوں ثالث سہولت فراہم کریں گے۔
پچھلے ہفتے امریکہ اور ایران نے ایک مفاہمت نامے پر آن لائن دستخط کیے، جس نے تنازعات کو حل کرنے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی مدت شروع کی، جن میں ایران کےافزودہ یورینیم کے ذخائر کا مستقبل، اس کا جوہری پروگرام اور دیگر نامکمل مسائل شامل ہیں۔
یہ 14 نکاتی دستاویز تمام محاذوں، بشمول لبنان، پر فوجی کشیدگیوں میں فوری اور مستقل خاتمے، ایران پر امریکی بحری محاصرے کے خاتمے اور تجارتی بحری جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کے مطالبات کرتی ہے۔














