اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی نے نیتن یاہو کو دوسری مرتبہ ہدایت کی ہے کہ وہ، کمیٹی کی طرف سے انتخابی مہم کا حصّہ قرار دی گئی، ویڈیو کو اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹوں سے حذف کرے اور قانونی مصارف بھی ادا کرے۔
اسرائیل کے 'چینل 7' ٹیلی ویژن کی منگل کو نشر کردہ خبر کے مطابق کمیٹی کے چیئرمین اور سپریم کورٹ کے جج 'نوم سولبرگ' نے نیتن یاہو کو تل نوف ایئر بیس پر بنائی گئی ویڈیو حذف کرنے اور 2,500 شیکل 'تقریباً 821 ڈالر'کےمصارف ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سولبرگ نے فیصلہ سنایا ہےکہ ویڈیو کی، نیتن یاہو کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹوں پر، اشاعت انتخابی قانون کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس میں ، ایک فوجی اڈے اور اسرائیلی فضائیہ کے ایک طیارے سمیت، عوامی وسائل کا استعمال کیا گیا ہے۔
نیتن یاہو نے مذکورہ ویڈیو کہ جس کے پس منظر میں اسرائیلی فضائیہ کا ایک طیارہ بھی نظر آ رہا تھا، 29 ستمبر کو شیئر کی تھی۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے چینل 15 کے مطابق جج نے خبردار کیا ہے کہ ’’ایسے اشارے موجود ہیں کہ دشمن انتخابات سے قبل اسرائیل پر حملہ کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘
یہ تازہ فیصلہ سولبرگ کی جانب سے اتوار کے روز پانچ الگ الگ درخواستوں پر سنائے گئے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان درخواستوں میں نیتن یاہو کی جانب سے اپنے ذاتی اکاؤنٹوں پر انتخابی مہم کے زیرِ مقصد سرکاری تقریروں اور فوجی عناصر کے استعمال کئے جانے سے متعلق اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔
ان درخواستوں میں ایک ایسی ویڈیو بھی شامل تھی جو نیتن یاہو کے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی ایک چوکی کے دورے کے دوران بنائی گئی تھی۔
واضح رہے کہ اسرائیل میں کنیسٹ کے انتخابات 27 اکتوبر کو متوقع ہیں۔ نیتن یاہو کی زیرِ قیادت 'لیکوڈ پارٹی' اور حکمران اتحاد میں شامل سیاسی جماعتیں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے مقابلے میں انتخابات لڑ رہی ہیں۔
حالیہ رائے عامہ جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی بھی سیاسی اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں اکیلے حاصل نہیں کر سکے گا۔ سرکاری نشریاتی ادارے 'کان' کی جانب سے اتوار کو جاری کیے گئے ایک سروے کے مطابق حزبِ اختلاف جماعتوں کو 52 نشستیں جبکہ نیتن یاہو اتحاد کو 51 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔



















