ترکیہ وزارتِ قومی تعلیم نے ملک بھر کے اسکولوں کو ، والدین کی پیشگی اجازت کے بغیر طلبہ کی عوامی سطح پر شائع کردہ تصاویر اور ویڈیو مناظر کو سوشل میڈیا سے ہٹانے کی، ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ان ہدایات کا مقصد ذاتی معلومات کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ وزارتِ قومی تعلیم کی ہدایات کی رُو سے اسکولوں کو اپنی ویب سائٹوں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹوں پر نظر ثانی کر کے پہلے سے شائع کردہ اور طلبہ کی تصاویر یا ذاتی معلومات پر مبنی تمام مواد کو حذف کرنا ہوگا۔
وزارت نے خبردار کیا ہے کہ طلبہ کے ذاتی مواد تک غیر مجاز رسائی یا اس کے غلط استعمال کی نشاندہی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اسکولوں کے عملے کو بھی ، ذاتی معلومات کے تحفظ اور معلوماتی سلامتی سے متعلقہ لازمی تربیت مکمل کرنے کی، ہدایت دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ ترکیہ میں بعض اساتذہ کے، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر، کمرہ جماعت میں طلبہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور سرگرمیوں کے ویڈیو مناظر شیئر کرکے لاکھوں ناظرین اور بڑی تعداد میں فالوور حاصل کرنے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔
اساتذہ کی یہ حرکت انٹرنیٹ پر شدید تنقید کا نشانہ بنی اور ناقدین کا کہنا تھا کہ اس سے طلبہ کی رازداری اور نجی زندگی متاثر ہوتی ہے۔
اسی نوعیت کے خدشات دیگر ممالک میں بھی سامنے آئے ہیں۔
اسپین میں ماہرینِ تعلیم اور قانونی ماہرین نے نام نہاد "ٹیچ ٹاکر" کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تنقید کی ہے، جس میں بعض اساتذہ طلبہ کی تصاویر اور کمرہ جماعت کی سرگرمیوں کو اپنی ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ترکیہ وزارتِ قومی تعلیم کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ریگولیٹری اداروں پر آن لائن رازداری کے تحفظ کے حوالے سے نگرانی اور دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
میٹا نے گزشتہ ہفتے اپنے نئے انسٹاگرام مصنوعی ذہانت کے تیار کردہ اور رازداری اور صارفین کی رضامندی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرنے کے موقف سے خطرات کا سبب بننے والے فیچر کو سوشل میڈیا سے ہٹا دیا تھا۔ اس فیچر کے ذریعے صارفین عوامی انسٹاگرام اکاؤنٹوں پر موجود تصاویر اور مواد کو استعمال کرکے نئی تصاویر تخلیق کر سکتے تھے۔
فیچر کو ہٹائے جانے سے قبل عوامی انسٹاگرام صفحات والے صارفین کوخودکار شکل میں اس میں شامل کر دیا جاتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ دوسرے افراد ان کی معلومات یا واضح رضامندی کے بغیر ان کی عوامی تصاویر کو استعمال کرکے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ یا ترمیم شدہ تصاویر بنا سکتے تھے۔
بعد ازاں میٹا نےاپنے مقصد میں ناکامی کا اعتراف کیا اور اس فیچر کے" اب مزید دستیاب نہ ہونے" کا اعلان کیا۔

















