غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل نے 6 لبنانیوں کو ہلاک کر دیا
اسرائیل کا دعویٰ ہم نے حزب اللہ کے 6 افراد کو ہلاک کیا ہے، حزب اللہ کا دعویٰ ہلاک کئے گئے افراد عام شہری تھے
اسرائیل نے 6 لبنانیوں کو ہلاک کر دیا
2 مارچ سے اب تک، اسرائیل نے لبنان میں 4,000 سے زائد افراد کو ہلاک، 12,000 سے زائد کو زخمی اور دس لاکھ سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔ / AP

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے چھ افراد کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔تاہم حزب اللہ نے انہیں  عام شہری قرار دیا ہے۔

تل ابیب امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسرائیلی فوج نے جمعرات کو جاری کردہ  بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد حزب اللہ کے جنگجو تھے اور زوَتَر الشرقیہ قصبے اور علی الطاہر کی پہاڑیوں میں فوجی دستوں کے لیے "خطرہ" بن رہے تھے۔

تاہم اسرائیلی فوج نے نہ تو ہلاک ہونے والوں کی شناخت ظاہر کی اور نہ ہی اس مبینہ خطرے کی نوعیت کے بارے میں کوئی ثبوت پیش کیا ہے جس کا بقول اس کے اسے سامنا ہے۔

حزب اللہ نے جاری کردہ بیان میں اپنی طرف سے جنگ بندی معاہدے  کی مکمل پابندی کا اقرار کیا اور  جنوبی لبنان میں شہریوں کو نشانہ بنانے والا اسرائیلی ڈرون حملے کو جنگ بندی کی "واضح" خلاف ورزی  قرار دیا ہے۔

لبنانی گروہ نے اپنے بیان میں کہا  ہے کہ یہ حملہ ضلع نبطیہ کے قصبہ کفر رمان میں دو شہریوں کو نشانہ بنا کر کیا گیا جس کے نتیجے میں  دونوں افراد ہلاک  ہو گئے ہیں۔

گروہ نے اس حملے کو گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنانی شہریوں پر کیا جانے والا دوسرا دانستہ حملہ قرار دیا۔

اسرائیلی قبضہ

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ لبنان پر جاری قبضے کے دوران اپنی بعض جنگی بریگیڈوں کو جنوبی لبنان سے واپس اسرائیل منتقل کرنا شروع کر رہی ہے۔

فوجی ریڈیو نے اپنے عسکری نامہ نگار 'دورون کادوش' کے حوالے سے کہا ہے کہ فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی متعین افواج کی تعداد کم کرنا اور بعض جنگی بریگیڈوں کو اسرائیل واپس بلانا شروع کر دیا ہے۔

نشریاتی ادارے کے مطابق یہ اقدام، لبنان میں قابض جنگی دستوں کی تعداد کم کرنے اور بعض بریگیڈوں کو "تیاری کی سطح بلند رکھنے" اور تربیتی مرحلے میں شامل کرنے پر مبنی ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔

فوجی ریڈیو کے مطابق، جاری جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں مختلف مقامات پر  قبضہ برقرار رکھے گی، تاہم ہر بریگیڈ تقریباً ایک ماہ تک قبضے کی ذمہ داریوں سے الگ رہ کر تربیت اور تیاری کی سرگرمیوں میں حصہ لے گی۔

اسرائیل نے 2 مارچ سے لبنان پر اپنی جارحیت کے دوران 4,200 سے زائد افراد کو ہلاک اور 12,000 سے زیادہ کو زخمی کیا ہے۔