ایرانی میڈیا نے منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں چھوٹے مال بردار بحری جہازوں پر امریکی حملے میں پانچ عام شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔
ایران نے اس واقعے کے بارے میں واشنگٹن کے سرکاری بیان کو مسترد کر دیا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'تسنیم' نے ایک فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی افواج نے عمان کے ساحلی علاقے 'خصب' سے ایران کی طرف سامان لے جانے والی دو چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔
فوجی ذرائع کے مطابق، حملے میں جاں بحق ہونے والے پانچوں افراد ان کشتیوں پر سوار مسافر تھے اور انہوں نے اس حملے کو ایک "عجلت میں اٹھایا گیا قدم" قرار دیا جو امریکی فوج کے اندر پاسدارانِ انقلاب کی تیز رفتار کشتیوں کے آپریشنز کے "خوف" کا نتیجہ ہے۔
دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے پہلے بیان جاری کیا تھا کہ امریکی ہیلی کاپٹروں نے "تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے والی ایرانی چھوٹی کشتیوں" کو تباہ کر دیا ہے۔
سینٹ کام کا کہنا تھا کہ ان کشتیوں کو آبنائے ہرمزمیں ٹریفک کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوششوں کے دوران نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ کام نے ایران پر یہ الزام بھی لگایا کہ اس نے پیر کے روز امریکی جنگی جہازوں اور تجارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کی تھی۔
خطے میں اس تنازع کا آغاز 28 فروری کو ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکہ کے اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائی کی اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔
پاکستان کی ثالثی کے ذریعے 8 اپریل کو جنگ بندی عمل میں آئی تھی، لیکن اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی پائیدار معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے، بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی مقررہ وقت کی حد کے بغیر اس جنگ بندی میں توسیع کر دی تھی۔
13 اپریل سے امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری آمد و رفت پر بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔













