فلسطین وزارت خارجہ نے عالمی کمپنیوں اور اقتصادی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ مشرقی القدس میں واقع غیر قانونی E1 آبادکاری منصوبے سے متعلق اسرائیلی تعمیراتی ٹینڈروں میں حصہ نہ لیں۔
وزارت خارجہ نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی شرکت بین الاقوامی قانون کے تحت عائد ذمہ داریوں سے متصادم ہوگی۔کمپنیوں کو غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر حصہ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے۔
بیان میں عالمی برادری سے بھی اس منصوبے کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ یہ مؤقف بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ ہے۔ جیسا کہ عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) نے بھی کہا ہے کہ ریاستوں کو، قابض پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے، ان غیر قانونی حالات کو برقرار رکھنے میں مدد یا معاونت نہیں کرنی چاہیے ۔
وزارت نے خبردار کیا ہےکہ E1 منصوبہ مقبوضہ مغربی کنارے کو تقسیم کرکے اس کی جغرافیائی سالمیت کو نقصان پہنچائے گا اور دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید کمزور کر دے گا۔
بیان میں ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہےکہ وہ محض سیاسی بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری میں توسیع روکنے اور اسے اس منصوبے سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنے کے لیے "عملی اور مؤثر اقدامات" کریں۔
عملی اقدام کا مطالبہ
وزارت نے مزید کہا ہے کہ منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کے لیے قبضے اور غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کا خاتمہ اور بین الاقوامی قانون کا احترام ضروری ہے۔ اس نے اسرائیل کے غیر قانونی آبادکاری کے نظام کے خلاف اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
فلسطین کے نائب صدر حسین الشیخ نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی اور کہا ہے کہ E1 کے خلاف عالمی مخالفت کو اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری پالیسیوں کو روکنے اور فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات میں تبدیل ہونا چاہیے۔
جمعرات کی صبح برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، کینیڈا اور ناروے نے مشترکہ بیان جاری کیا جس میں اسرائیل کے E1 منصوبے کو آگے بڑھانے کے فیصلے کو "ناقابل قبول" قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی۔
ان سات ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس منصوبے سے دستبردار ہو اور مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی آبادکاری کی توسیع روک دے۔ انہوں نے کمپنیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ E1 سے متعلق تعمیراتی معاہدوں کے لیے بولی نہ دیں۔
منگل کے روز اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں عِیر عَمِیم (Ir Amim)، بِمکوم (Bimkom) اور پیس ناؤ (Peace Now) نے کہا کہ اسرائیل نے منصوبے کے مخالف فریقوں کو اطلاع دیے بغیر 1,234 آبادکاری یونٹس کے لیے ٹینڈر جاری کر دیا ہے، حالانکہ اس نے پہلے سے اطلاع دینے کا وعدہ کیا تھا۔
E1 منصوبے کے تحت تقریباً 3,400 غیر قانونی آبادکاری یونٹس شامل ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد فلسطینی اراضی پر اسرائیلی تعمیرات کے ذریعے غیر قانونی معالیہ ادومیم بستی کو مقبوضہ مشرقی یروشلم سے جوڑنا ہے۔
دنیا بھر میں متعدد ناقدین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے کو تقسیم کرکے دو ریاستی حل کو ناممکن بنانا ہے۔














