پینٹاگون نے فورٹ ہُڈ کے حملہ آور نضال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی منظوری دے دی ہے۔
پینٹاگون نے پیر کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ امریکی حکومت نے فورٹ ہُڈ حملے میں مجرم قرار دیئے گئے' نضال ملک حسن' کو فوجی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے گولی مار کر سزائے موت دینے کی منظوری دے دی ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی تجویز کردہ سزائے موت کی منظوری دے دی ہے۔ سزائے موت کی تاریخ اور مقام کا تعین بّری فوج کے وزیر کریں گے۔
واضح رہے کہ سابق فوجی ماہرِ نفسیات اور میجر 'حسن' نے 5 نومبر 2009 کو ٹیکساس میں واقع فورٹ ہُڈ فوجی اڈے میں فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے تھے۔
فوجی جیوری نے حسن کو ارادی اقدامِ قتل کے 13 الزامات اور قتل کی ارادی کوشش کے 32 الزامات میں مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔
فوجی استغاثہ کے وکیل کرنل' اسٹیو ہینرکس' نے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ حسن نے فوجی اڈے کے اندر اپنا ایک ’’ذاتی علاقہ قتل‘‘ قائم کر رکھا تھا۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے پہلی سزائے موت
مجوزہ پھانسی امریکی فوجی نظامِ انصاف کی تاریخ میں ایک نادر واقعہ ہوگی۔ آخری امریکی فوجی جسے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی گئی وہ سپاہی 'ایڈی سلووک' تھا جسے دوسری جنگِ عظیم کے دوران فوج سے فرار ہونے کے جرم میں 1945 میں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔
امریکی فوج کی جانب سے دی جانے والی آخری سزائے موت 1961 میں سپاہی جان بینیٹ کو پھانسی دے کر دی گئی تھی۔



















