امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے مخالفین کے خلاف پابندیوں کے ذریعے نبرد آزما ہونے کے قانون (CAATSA) کے تحت ترکیہ پر عائد امریکی پابندیوں کو ہٹانے کے بارے میں پوچھے جانے پر مثبت انداز میں جواب دیا، تاہم کسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ پابندیاں ہٹانے میں تاخیر کی وجہ کیا ہے، تو ٹرمپ نے جواب دیا، "میں ہمیشہ صدر ایردوان سے بات کرتا ہوں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، وہ میرے دوست ہیں۔ میں ہمیشہ ان کے ساتھ مثبت تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہوں۔"
ٹرمپ نے ماہِ جولائی میں ترکیہ میں نیٹو سمٹ میں ایردوان سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ وہ CAATSA پابندیاں اٹھانا چاہتے ہیں اور انقرہ کو F-35 لڑاکا طیارے خریدنے کی اجازت دینے پر قطعی طور پر غور کریں گے۔
جب انقرہ نے روسی S-400 ہوائی دفاعی نظام حاصل کیا تھا توامریکہ نے 2019 میں ترکیہ کو F-35 پروگرام سے خارج کر دیا تھا۔
واشنگٹن کا کہنا تھا کہ یہ نظام F-35 کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور نیٹو کے نظام کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔




















