سیول کی فوج نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے کم از کم ایک بیلسٹک میزائل داغاہے۔
یہ اعلان اس کے ایک دن بعد آیا جب پیونگ یانگ نے جنوبی کوریا کو 'قابل نفرت' قرار دیا تھا، کیونکہ جنوبی کوریا نے غیر فوجی زون میں ایک دھماکے پر معافی کا مطالبہ کیا تھا جس میں اس کے تین فوجی زخمی ہوئے تھے۔
سیول کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف نے ہفتہ کو کہا، 'ہماری فوج نے شمالی کوریا کے وونسان علاقے سے مشرقی سمندر (جسے بحیرہ جاپان بھی کہا جاتا ہے) کی جانب ایک بیلسٹک میزائل لانچ ہونے کا تعین کیا ہے۔'
پیونگ یانگ نے گزشتہ ماہ غیر عسکری زون کے اندر ہونے والے بارودی سرنگ کے دھماکے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ ڈی ایم زیڈ وہ بھاری بارودی سرنگوں والی حفاظتی پٹی ہے جو 1953 کی جنگ بندی کے بعد دونوں کوریا ئی مملکتوں کو جدا کرتی ہے۔
سیول اور امریکہ کی قیادت میں اقوامِ متحدہ کی کمانڈ نے کہا کہ دھماکا سرحد کے جنوبی حصے پر نصب شمالی کوریا کی بارودی سرنگوں کی وجہ سے ہوا تھا۔
جنوبی کوریا کی فوج نے اس ہفتے کے اوائل میں شمالی کوریا سے سرکاری معافی کا مطالبہ کیا تھا۔
ایک دن بعد، جنوبی کوریا کے امن پسند صدر لی جے میونگ نے پیونگ یانگ سے مذاکرات کی طرف واپس آنے کی اپیل کی۔
شمالی کوریا کے رہنما کی ہمشیرہ کم یو جونگ نے جمعہ کو سیول کو 'قابل نفرت' قرار دیا اور ایک بار پھر ان دھماکوں میں پیونگ یانگ کے ملوث ہونے سے انکار کیا۔
میزائل کا تجربہ اُن بڑھتی ہوئی کشیدگیوں کے دوران ہوا جو پچھلے ماہ بارودی سرنگوں کے دھماکوں کے بعد سامنے آئیں، جن میں تین جنوبی کوریائی فوجی زخمی ہوئے تھے۔ جنوبی کوریا اور امریکہ کی قیادت میں اقوامِ متحدہ کے کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے شمالی کوریا کی بارودی سرنگوں کی وجہ سے ہوئے تھے۔























